بشار الاسد نے ترک صدر طیب ایردوآن کو چور قرار دے دیا

شامی صدر کا ادلب میں مسلح عوامی بغاوت کے بعد محاذ جنگ کا پہلا دورہ، فوجیوں سے ملاقات

دمشق : شامی صدر بشارالاسد نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کو چور قرار دے دیا ہے اور ان پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے پہلے فیکٹریاں لوٹیں ، گندم اور تیل چوری کیا اور اب شامی اراضی کو چھین رہے ہیں۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق انھوں نے ترک صدر کے خلاف یہ سخت بیان شمال مغربی صوبہ ادلب میں محاذِ جنگ کے دورے کے موقع پر دیا ۔بشار الاسد کا اپنے خلاف دوہزار گیارہ کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد ادلب کا یہ پہلا دورہ ہے۔
شامی صدر کے دفتر نے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر اطلاع دی کہ صدر اسد نے صوبہ ادلب میں واقع قصبے ہبیت میں محاذِ جنگ پر شامی فوج کے ارکان سے ملاقات کی ہے۔سانا کے مطابق صدر بشارالاسد نے کہا کہ ہم پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں اور اب پھر یہ کہتے ہیں کہ ادلب کی جنگ شام کے تمام علاقوں میں افراتفری اور دہشت گردی کے خاتمے کی بنیاد بنے گی۔قریبا تیس لاکھ آبادی پر مشتمل صوبہ ادلب کے بیشتر علاقوں پر اس وقت اسد مخالف باغی گروپوں اور القاعدہ سے وابستہ سخت گیر جنگجوں کا کنٹرول ہے۔
اسد حکومت ان تمام کو بلا تمیز دہشت گرد قرار دیتی ہے۔اس صوبے میں روس کی ثالثی کے نتیجے میں شامی حکومت اور باغی گروپوں میں جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور اس پر اکتیس اگست سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ تب سے وہاں تشدد کیواقعات میں بھی کمی آئی ہے۔ البتہ شامی حکومت کی وفادار فورسز اور باغی جنگجوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 23 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp