خواجہ سراؤں کو سرکاری ملازمتیں دینے کا فیصلہ کر لیا گیا

خواجہ سراؤں کے لیے تمام سرکاری اداروں میں 0.5 فیصد نوکریوں کا کوٹا مقرر کرنے کی منظوری دے دی

کراچی : : حکومت نے خواجہ سراؤں کو سرکاری ملازمتیں دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خواجہ سراؤں کے لیے تمام سرکاری اداروں میں 0.5 فیصد نوکریوں کا کوٹا مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خواجہ سرا برادری کو سرکاری نوکریوں کی درخواست دینے کے لیے کاغذات تیار رکھنے کی ہدایت کر دی ۔ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ میں خواجہ سرا برادری کو قومی دھارے میں لا کر انہیں معاشرے کے کارآمد لوگوں میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے سندھ حکومت نے پولیس میں غازی اہلکاروں کو پیکج اور خواجہ سراؤں کو نوکریاں دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ فیصلے کے مطابق جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مقابلوں اور دیگر واقعات میں معذور ہونے والے اہلکاروں کو پیکج کے ساتھ ملازمت بھی دی جائے گی ۔ اس سے قبل بیت المال پاکستان میں خواجہ سرا کو نائب قاصد کی ملازمت دی گئی تھی۔
خیال رہے کہ خواجہ سراؤں کو آہستہ آہستہ معاشرے میں ان کا مقام مل رہا ہے۔ عام انتخابات 2018ء میں بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خواجہ سرا نے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔ نایاب علی نامی خواجہ سرا نے عام انتخابات 2018ء میں پنجاب کے حلقہ این اے 141 اوکاڑہ سے آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
اس کے علاوہ عام انتخابات 2018ء میں خواجہ سراؤں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خواجہ سراؤں کو بھی معاشرے میں ایک مقام دے دیا گیا ہے۔جبکہ معاشرے نے بھی ان وجود کو تسلیم کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں خواجہ سراؤں کی خدمات حاصل کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ اپریل 2018ء میں لاہور میں خواجہ سراؤں کا ایک تعلیمی ادارہ بھی کھولا گیا۔ اس اسکول کا نام '' دی جینڈر گارڈین'' رکھا گیا جس میں خواجہ سراؤں کو پیشہ ورانہ اور تعلیمی ٹریننگ دی جاتی ہے۔خواجہ سرا مارویہ ملک کی سب سے پہلی نیوز اینکر کے طور پر اُبھریں۔ جبکہ اگست 2018ء میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خواجہ سرا کا بینک اکاؤنٹ کھولا گیا تھا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 23 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp