حسین نواز کا والد کو زہر دینے کے بیان پر یوٹرن

میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ انہیں زہر دیا گیا ہے لیکن اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ پلیٹلٹس گرنے کی وجہ زہر خورانی بھی ہو سکتی ہے۔ حسین نواز

لاہور : سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہاہے کہ پلیٹ لیٹس کم ہونے کی ایک وجہ زہر بھی ہو سکتی ہے۔تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ میں یہ نہیں کہا تھا کہ نواز شریف کو زہر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادی حیسن نواز شریف نے کہا ہے کہ میں ان تمام لوگوں کو شکر گزار ہوں جنہوں نے والد نواز شریف کے لیے دعا کی،اب وہ پہلے سے بہتر ہیں۔
حسین نواز نے مزید کہا کہ ڈاکٹر اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے پلیٹ لٹس کی تعداد اچانک کیوں کم ہوئی۔میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ انہیں زہر دیا گیا ہے لیکن اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ پلیٹلٹس گرنے کی وجہ زہر خورانی بھی ہو سکتی ہے۔ان کے انفیکشن اور ڈینگی کے سارے ٹیسٹ نیگیٹو ہیں۔آپ پاکستان کی تاریخ دیکھ سکتے ہیں کہ قائداعظم،محترمہ فاطمہ جناح،لیاقت علی خان،ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کس کھیت کی مولی ہیں ہم انہیں اپنا مخالف سمجھتے ہیں۔میاں صاحب کی جان کو خطرہ ہے اور حکومت اس میں بطور ایک مہرہ ذمہ دار ہے۔خیال رہے سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ رات 8 بجے کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کے خون میں پلیٹ لیٹس 16 ہزار کی سطح پر تھے۔ اسی ٹوئٹ کے جواب میں سابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا تھا کہ پلیٹ لیٹس کم ہونے کی ایک وجہ زہر بھی ہو سکتی ہے جو ایک یا دوسری صورت میں دیا جا رہا ہو۔
اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ کسی کو شبے کا فائدہ نہ دیں، اگر والد کو کوئی نقصان پہنچا تو آپ جانتے ہیں کون لوگ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔اس کے بعد حسین نواز نے ایک رپورٹ بھی پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ آج کا نہیں بلکہ بہت عرصے سے طے شدہ طبی معاملہ ہے کہ پلیٹ لیٹس کی کمی کی ایک وجہ زہر بھی ہو سکتی ہے۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف چوہدری شوگر مل کیس میں نیب کی حراست میں ہیں جبکہ وہ احتساب عدالت کی جانب سے انہیں العزیزیہ ریفرنس میں7 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 23 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp