مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کی درخواست مسترد

حکومت کا مینڈیٹ جعلی ہے اسے شروع دن سے تسلیم نہیں کیا. سربراہ جے یوآئی

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 اکتوبر ۔2019ء)اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعیت علمائے اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائی کی درخواست مسترد کر دی ہے. عدالت عالیہ نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف دائر کی گئی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی‘درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان پر اداروں کے خلاف تقریر کی وجہ سے پابندی لگائی جائے.
اسلام آباد ہا ئی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایسی باتوں سے کسی کو کیسے فرق پڑسکتا ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا جاتا ہے، درخواست گزار بتائیں کہ عدالت کو کسی کو کیوں روکنا چاہیے؟ کیا آپ نے اسلام پڑھا ہے، امام ابوحنیفہ ؒ اپنے شاگردوں سے اظہارِ اختلاف کرتے تھے. چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہیے، آج گلوبل ورلڈ ہے، سوشل میڈیا کا دور ہے آپ کس کس کو روکیں گے؟انہوں نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ ہمارے اپنے کردار ایسے ہونے چاہئیں کہ کوئی ہمارے بارے میں ایسی بات نہ کرے.
عدالتِ عالیہ نے یہ ریمارکس دینے کے بعد مولانا فضل الرحمان کے خلاف دائر کی گئی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی. دوسری جانب جمعیت علماءاسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مینڈیٹ جعلی ہے اسے شروع دن سے تسلیم نہیں کیا، وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے.
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا دھرنا نہیں مارچ ہوگا جس کی مدت زیادہ نہیں ہوگی، مرکزی قیادت کو گرفتار کیا گیا تو جوابی پلان بھی تیار ہے. انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ روکنے پر کوئی ڈیل یا سمجھوتا نہیں ہوگا، اسمبلیوں سے تمام اپوزیشن کے اجتماعی استعفے دینے کی تجویز زیرغور ہے جس کا فیصلہ مناسب وقت پر کریں گے‘آزادی مارچ سے متعلق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہیں گرفتاری یا نظربندی کا کوئی خوف نہیں.

تاریخ اشاعت : بدھ 23 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp