اگر نواز شریف کو کچھ بھی ہوا تو قتل کا مقدمہ کسی بکاؤ کورٹ میں نہیں لے جائیں گے

مسلم لیگ ن کے سینیٹر پرویز رشید نے حکومت کے خلاف مقدمہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے جانے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد : : سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف طبیعت خرابی کی وجہ سے سروسز اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر میاں صاحب کو کچھ بھی ہوا تو قتل کا مقدمہ پاکستان کی کسی بکاؤ کورٹ میں نہیں لے جائیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ میاں صاحب کو کچھ بھی ہونے کی صورت میں ان کے قتل کا مقدمہ دی ہیگ میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں عمران خان اور سلیکٹر کے خلاف درج ہوگا۔
یاد رہے کہ دو روز قبل طبیعت خراب ہونے پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو نیب لاہور آفس سے سروسز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ تاحال زیر علاج ہیں۔
نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد خطرناک حد تک گرنے کی وجہ سے ان کی صحت کو لے کر ڈاکٹرز کو بھی تشویش تھی۔ جس کے بعد نواز شریف کو دو میگا کٹ لگانے کے بعد ان کا دوبارہ سی بی سی ٹیسٹ کیا گیا تھا جس کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پلیٹ لیٹس کی تعداد 24 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائد کی حالت قدرے بہتر اور خطرے سے باہر ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ تاحال ایسی بھی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ میاں نواز شریف کے جسم کے کسی بھی حصے سے کسی قسم کی بلیڈنگ ہوئی ہو۔
خیال رہے کہ سروسز اسپتال میں پرنسپل پروفیسر ایاز محمود کی سربراہی میں چھ رکنی میڈیکل بورڈ نواز شریف کا علاج کررہا ہے جس میں ڈاکٹر کامران خالد، ڈاکٹر عارف ندیم ، ڈاکٹر فائزہ بشیر، ڈاکٹر خدیجہ عرفان اور ڈاکٹر ثوبیہ قاضی شامل ہیں۔ میڈیکل بورڈ سینئر میڈیکل اسپیشلسٹ، گیسٹرو انٹرولوجسٹ، انیستھیزیا اسپیشلسٹ اور فزیشن پر مشتمل ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 23 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp