سعودی عرب: نکاح کے لیے میڈیکل چیک اپ اور کیریکٹر سرٹیفکیٹ کی شرط رکھی جائے

سعودی خاتون سکالر جوھرہ الجھنی کا کہنا ہے کہ اکثر افراد مجرمانہ ماضی کے حامل ہونے کے باعث اپنی ازدواجی زندگی سے انصاف نہیں کر پاتے

جدہ : سعودی عرب میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران طلاق کی شرح میں ہوش رُبا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس مسئلے پر سماجی ماہرین بہت پریشان نظر آتے ہیں ۔ ایک سعودی خاتون ریسرچ اسکالر جوھرہ الجھنی نے مقامی سعودی اخبار سے انٹرویو میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ نکاح کے لیے کیریکٹر سرٹیفکیٹ کی شرط رکھی جائے اور اس سے قبل فریقین کا میڈیکل چیک اپ بھی ہونا چاہیے۔ جوھرہ الجھنی کا کہنا تھا کہ سعودی معاشرے میں طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جو انتہائی قابلِ تشویش ناک بات ہے۔
اس وقت ضرورت یہی ہے کہ اُن اسباب کی تلاش کی جائے جو طلاق کی شرح میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ الجھنی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اگرچہ شادی سے قبل میڈیکل چیک اپ کی شرط ہے تاہم اس کے ساتھ کیریکٹر سرٹیفکیٹ کی بھی شرط رکھی جائے تاکہ پتا چل سکے کہ فریقین میں سے کوئی بھی جرائم میں ملوث تو نہیں۔ کیونکہ اکثرمجرمانہ ذہنیت کے لوگوں شادی کا نازک بندھن اچھے طریقے سی نہیں چلا پاتے۔
جس کے باعث فریقین کی زندگی جہنم میں بدل جاتی ہے۔ الجھنی نے کہا کہ میڈیکل سرٹیفکیٹ سے پتا چل جاتا ہے کہ فریقین کو کوئی وبائی مرض لاحق تو نہیں۔ واضح رہے کہ وزارت عدل کی جانب سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ سعودی مملکت میں عدالت کی جانب سے 5100 طلاق نامے جاری کیے گئے۔ جن میں سے 48 فیصد طلاقیں ریاض اور مکہ مکرمہ میں رجسٹرڈ کی گئیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 23 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp