اگریہ بتا دیا کہ مولانا سے کون کون رابطے میں ہے توشیخ رشید کو نیند نہیں آئے گی

مولانا فضل الرحمن کو کہا گیا ہے کہ یکم نومبر تک انتظار کریں استعفیٰ آ جائے گا،یکم نومبر تک استعفیٰ نہ آیا تو بے شک 2 نومبرکو مارچ لے کر آ جائیں۔کرنل (ر) وسیم کا حامد میر کے بیان پر ٹویٹ

لاہور : : جعمیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو لے کر حکومت خاصے دباؤ میں نظر آ رہی ہے،حکومت نے مولانا فضل الرحمن کو مذاکرات کی بھی پیشکش کی اور یہ بھی کہا کہ ملک کے حالات اس وقت ایسے نہیں کہ دھرنا دیا جائے۔جب کہ اس صورتحال میں تمام وزراء مختلف قسم کے بیانات دے رہے ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید بھی کبھی تو کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن دھرنا نہیں دیں گے اور کبھی چھپے الفاظ کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کو سمجھانے والوں سے سمجھا دیا ہے اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ اگر بتا دیا کہ مولانا صاحب سے کس کس نے رابطے لئے اور کیا کیا باتیں ہوئیں تو شیخ رشید صاحب کو رات کو نیند نہیں آئے گی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ شیخ رشید کو بتانا چاہئیے کہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مذاکرات کون کر رہا ہے اور ان کے ساتھ رابطے میں کون ہیں؟حامد میر نے کہا کہ میں اگر بتا دوں کہ مولانا کے ساتھ کس کس نے رابطے قائم کیے ہیں اور وہاں پر کیا کیا باتیں کی گئیں ہیں تو شیخ رشید کو رات کو نیند نہیں آئے گی۔
۔
حامد میر کی اسی بات پر کرنل (ر) وسیم نےٹویٹ کیا کہ حامد میر صاحب کی اطلاعات یقیناً ہم سے زیادہ ہیں، کچھ باتیں تو ہمیں بھی پتہ ہیں اور ان میں موسٹ کنفرم یہ کہ مولانا کو کہا گیا ہے کہ یکم نومبر تک اسلام آباد تشریف نہ لائیں، یکم تک استعفیٰ آ جائے گا، اگر نہ آیا تو بے شک 2 کو مارچ لے کر آ جائیں، تمام ادارے غیر جانبدار رہیں گے.
۔خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے 31اکتوبر کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جس کی بھرپورتیاریاں جاری ہیں۔

تاریخ اشاعت : منگل 22 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp