پی سی بی نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیی16 رکنی قومی ٹیسٹ و ٹی 20سکواڈ کااعلان کردیا

, سرفراز احمد آئوٹ ، ٹیسٹ کی کپتانی اظہر علی ، ٹی 20کی بابر اعظم کرینگے ، نوجوان فاسٹ باؤلرزموسیٰ خان اور نسیم شاہ کو قومی اسکواڈ میں شامل شاہین شاہ آفریدی محمد عباس کو قومی ٹیسٹ ٹیم میں برقرار رکھا گیا ہے فاسٹ باؤلر عمران خان سینئر کی قومی ٹیسٹ اسکواڈمیں واپسی , ٹی ٹونٹی سیریز کے لیے موسیٰ خان وہاب ریاض، محمد عامراورمحمد حسنین بھی قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ کا حصہ دراز قد فاسٹ باؤلر محمد عرفان کی بھی ٹیم میں واپسی , g آسٹریلیا میں انہیں مختلف چیلنجز کا سامنا ہوگا، دونوں فارمیٹ کے لیے متوازی ٹیموں کا انتخاب کیا گیا ہمیں وہاں مختلف نہیں بلکہ جارحانہ کرکٹ کھیلنی ہے،موسیٰ خان اور نسیم شاہ کا انتخاب کرنا ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے تاہم ان کی جارحانہ حکمت عملی سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے مثبت نتائج سامنے آئیں گے، مصباح الحق

لاہور : پی سی بی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل آئندہ ماہ شیڈول آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے لیی16 رکنی قومی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے۔ نوجوان فاسٹ باؤلرزموسیٰ خان اور نسیم شاہ کو قومی اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا جبکہ شاہین شاہ آفریدی اور محمد عباس کو قومی ٹیسٹ ٹیم میں برقرار رکھا گیا ہے۔فاسٹ باؤلر عمران خان سینئر کی قومی ٹیسٹ اسکواڈمیں واپسی ہوئی ہے۔
عمران خان سینئر نیپاکستان کی جانب سے اپنا نواں اور آخری ٹیسٹ میچ آسٹریلیاکے خلاف کھیلا تھا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سڈنی میں ٹیسٹ میچ جنوری 2017 میں کھیلا گیا تھا۔اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ موسیٰ خان 7 فرسٹ کلاس میچوں میں 17 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے 5 فرسٹ کلاس میچوں میں 17 وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔
قائداعظم ٹرافی 20-2019 کے 4 میچوں میں موسیٰ خان نے 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ نسیم شاہ نے قائداعظم ٹرافی کے پہلے مرحلے میں 3 میچوں میں 9 وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔ 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرنے والیدونوں فاسٹ باؤلرزنے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی دھاک بٹھارکھی ہے۔ دونوں کھلاڑی گذشتہ کافی عرصے سے قومی جونیئر اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ فاسٹ باؤلر موسیٰ خان کو قومی ٹی ٹونٹی ٹیم میں بھی شامل کرلیا گیا ہے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز نومبر کے آغاز میں شیڈول ہے۔ٹی ٹونٹی سیریز کے لیے موسیٰ خان کے علاوہ وہاب ریاض، محمد عامراورمحمد حسنین بھی قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔ دراز قد فاسٹ باؤلر محمد عرفان کی بھی قومی ٹی ٹونٹی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔چیف سلیکٹر مصباح الحق نے دونوں فارمیٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے دیگر کھلاڑیوں کو قومی اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔
بنوں سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ بلے باز خوشدل شاہ اور 26 سالہ اسپنر عثمان قادر کو قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ میں شامل کرلیاگیا ہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے عثمان قادر آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں پرتھ سکورچرز کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں جاری قومی ٹی ٹونٹی کپ میں خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے بائیں ہاتھ کے بلے باز خوشدل شاہ 160 سے زائد اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 93 رنز بناچکے جبکہ اسپنر عثمان قادر 7 سیبھی کم اکانومی ریٹ کے ساتھ 4 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
سلیکشن کمیٹی نے قومی ٹیسٹ ٹیم میں موسیٰ خان اور نسیم شاہ کے علاوہ اوپنر عابد علی کوبھی پہلی بار قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔اوپنر عابد علی اب تک 104 فرسٹ کلاس میچوں میں 7000 رنز بناچکے ہیں۔ قائداعظم ٹرافی کے پہلے مرحلے میں 2 میچوں میں شرکت کرنے والے عابد علی نے 300 رنز بنائے۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر کاشف بھٹی کو بھی قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔
33 سالہ اسپنر نے حالیہ سیزن میں 10 وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔ اس کے علاوہ بائیں ہاتھ کے اسپنر 83 فرسٹ کلاس میچوں میں 327 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ عمران خان سینئر کی طرح مڈل آرڈر بلے باز افتخار احمدکی بھی قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے۔اس سے قبل افتخار احمد نے پاکستان کی جانب سے واحد ٹیسٹ میچ 2016 میں انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کہا کہ آسٹریلیا میں انہیں مختلف چیلنجز کا سامنا ہوگا، اس لیے دونوں فارمیٹ کے لیے متوازی ٹیموں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں وہاں مختلف نہیں بلکہ جارحانہ کرکٹ کھیلنی ہے۔چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ نے کہا کہ موسیٰ خان اور نسیم شاہ کا انتخاب کرنا ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے تاہم ان کی جارحانہ حکمت عملی سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی کنڈیشنزاور پچز پر باؤلنگ کرنا دونوں کھلاڑیوں کے لیے مفید تجربہ ہوگا۔
دونوں فاسٹ باؤلرز کی موجودگی میں قومی ٹیم آسٹریلیا کو 2 مرتبہ آؤٹ کرکے ٹیسٹ جیتنے کی کوشش کرے گی۔مصباح الحق پرامید ہیں کہ دونوں فاسٹ باؤلرز اپنی رفتار اور سوئنگ سے حریف ٹیم کو حیران کردیں گے۔ چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم مصباح الحق نے کہا کہ محمد عباس تجربہ کار کھلاڑی ہیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی کی نمایاں کارکردگی سے سب واقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سینئر کی موجودگی کا فائدہ محمد عباس کو ہوگا۔ عمران خان سینئر کا شمارنئے گیند سے بہترین باؤلنگ کرنے والیفاسٹ باؤلرز میں ہوتا ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ نوجوان فاسٹ باؤلرز کی موجودگی سے جہاں قومی کرکٹ ٹیم کا پیس اٹیک مضبوط ہوگا تو وہی یاسر شاہ کے ساتھ کاشف بھٹی کی شمولیت سے اسپن کا شعبہ بھی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یاسر شاہ کاشمار طویل فارمیٹ کے بہترین اسپنرز میں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل ہمارے پاس تجربہ کار بلے باز موجود ہیں جس کے باعث کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ فخر زمان کی جگہ عابد علی کو ٹیم میں شامل کرلیا گیا ہے جبکہ مڈل آرڈر بلے باز افتخار احمد کو بھی قومی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ بنالیا گیا ہے۔ چیف سلیکٹر نے کہا کہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کو مدنظر رکھتے ہوئے دراز قد فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو قومی اسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاسٹ باؤلر محمد عرفان آسٹریلوی کنڈیشنز میں مفید ثابت ہوں گے۔مصباح الحق نے کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بلے باز خوشدل شاہ کو قومی ٹی ٹونٹی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جبکہ آسٹریلیا میں بگ بیش لیگ کھیلنے والے اسپنر عثمان قادر کی قومی ٹی ٹونٹی ٹیم میں شمولیت کا فائدہ شاداب خان کو ہوگا۔
قومی ٹی ٹونٹی کپ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر آصف علی ٹیم میں جگہ برقرار رکھا گیا ہے۔ افتخار احمد بھی مڈل آرڈر میں ان کی مدد کریں گے۔ کمر کی انجری کا شکار حسن علی ری ہیب پروگرام میں شرکت کررہے ہیں، جس کے باعث ان کا انتخاب نہیں کیا گیا تاہم ڈینگی وائرس سے نجات پانے والے شاہین شاہ آفریدی کو قومی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔
مستقبل کی حکمت عملی کے پیش نظر محمد حفیظ اور شعیب ملک کا نام زیر غور نہیں آیا۔ قومی ٹی ٹونٹی ٹیم سیریز میں شرکت کے لیے 26 اکتوبر کو سڈنی روانہ ہوگی جبکہ ٹیسٹ اسکواڈقائداعظم ٹرافی کے پانچویں راؤنڈ میں شرکت کے بعد نومبر کے پہلے ہفتے میں پرتھ کے لیے اڑان بھرے گا۔ 16 رکنی قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم میں بابراعظم (کپتان) (سنٹرل پنجاب)، آصف علی (ناردرن)، فخر زمان (خیبرپختونخوا)، حارث سہیل (بلوچستان)، محمد حسنین (سندھ)، افتخار احمد (خیبرپختونخوا)، عماد وسیم (ناردرن)، امام الحق (بلوچستان)، خوشدل شاہ (خیبرپختونخوا)، محمد عامر (ناردرن)، محمدعرفان(سدرن پنجاب)، محمد رضوان (وکٹ کیپر) (خیبرپختونخوا)،موسیٰ خان (ناردرن)، شاداب خان (ناردرن)، عثمان قادر (سنٹرل پنجاب) اور وہاب ریاض (سدرن پنجاب) شامل ہیں۔
16 رکنی قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں اظہر علی (کپتان) (سنٹرل پنجاب)، بابراعظم (سنٹرل پنجاب)، عابد علی (سندھ)، اسد شفیق (سندھ)، حارث سہیل (بلوچستان)، افتخار احمد (خیبرپختونخوا)، عمران خان سینئر (خیبرپختونخوا)، امام الحق (بلوچستان)، کاشف بھٹی (سندھ)، محمدعباس (سدرن پنجاب)، محمد رضوان (وکٹ کیپر) (خیبرپختونخوا)،موسیٰ خان (ناردرن)، نسیم شاہ (سنٹرل پنجاب)، شاہین شاہ آفریدی (ناردرن)، شان مسعود (سدرن پنجاب) اور یاسر شاہ (بلوچستان) شامل ہیں ۔
شیڈول کے مطابق 31اکتوبر: کرکٹ آسٹریلیا الیون کے خلاف 3 نومبر کو پہلا ٹی ٹونٹی میچ کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ٹی ٹونٹی میچ 5 نومبرکو اور تیسرا ٹی ٹونٹی میچ 8 نومبرکو کھیلا جائے گا 11تا13نومبر کرکٹ آسٹریلیا الیون کے خلاف تین روزہ میچ کھیلے جائیں گے۔ 15تا16نومبر کرکٹ آسٹریلیا الیون کے خلاف دو روزہ میچ کھیلے جائیں گے۔21تا 25نومبر پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا جائے گا۔29 نومبر تا 3 دسمبر دوسراٹیسٹ میچ کھیلا جائے گا۔

تاریخ اشاعت : پیر 21 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp