کوئی نہیں چاہتا نظام لپیٹ دیا جائے، سسٹم گیا تو بڑی سختی ہوگی،عارف نظامی

حکومت کو نوازشریف والی حکمت عملی اپنانی چاہیے، نوازشریف نے 126 دنوں کے دھرنے میں عمران خان کو تھکا دیا تھا، ایمپائر کی انگلی بھی نہیں اٹھنے دی، اب توایمپائر بھی حکومت کے ساتھ ہے، لہذا حکومت ان کو آنے دیں اور کہیں بیٹھ جائیں۔ سینئرتجزیہ کار عارف نظامی کا تبصرہ

لاہور : سینئرتجزیہ کار عارف نظامی نے کہا ہے کہ یہ کوئی نہیں چاہتا نظام لپیٹ دیا جائے، سسٹم گیا تو بڑی سختی ہوگی، حکومت کو نوازشریف والی حکمت عملی اپنانی چاہیے، نوازشریف نے 126 دن عمران خان کو تھکا دیا تھا، ایمپائر کی انگلی بھی نہیں اٹھنے دی،اب توایمپائر بھی حکومت کے ساتھ ہے، لہذا ان کو آنے دیں اور کہیں بیٹھ جائیں۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو وزیراعظم کا استقبال کرنا چاہیے تھا۔
لاڑکانہ میں الیکشن ہارنا پیپلزپارٹی کیلئے بڑا دھچکا ہے۔حکومت کو ڈاکٹرزسے بات کرنی چاہیے۔ ملک میں بہت زیادہ بے روزگاری ہے۔انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے 845 نوکریوں کو قرعہ اندازی کیلئے اوپن کیا لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم قراردے دیا۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، نہ کوئی امتحان ہے ؟ شیخ رشید کہتے میرے حلقے کے تو لوگ ریلوے ملازمین نہیں ہیں، اب پتا نہیں کس نے جھرلوپھیرا ہے، یہ یونین والے باتیں کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان میرٹ کی بات کررہے ہیں، جبکہ خسروبختیارپرنیب کے اتنے زیادہ کیسز ہیں اور اچانک راتوں رات وہ کئی شوگرملز کا مالک بن گیا ہے۔اس کو نہیں چھیڑتا، شیخ رشید سے کوئی جواب طلبی نہیں کرتا۔پرویز خٹک ویسے یتیم ہیں، وہ مذاکرات کررہے ہیں۔عارف نظامی نے کہا کہ یہ سیاست کا گورکھ دھندا ہے۔کہ حکومت اور مولانا فضل الرحمان دونوں مذاکرات میں سنجیدہ نہیں،اگر حکومت سیاسی مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہوتی توسیاسی مذاکرات کرتی۔
لیکن کنٹینرزنہ لگائے جائیں گے، گرفتاریاں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، نوازشریف نے عمران خان کے دھرنے کو بڑے اچھے طریقے سے ہینڈل کیا تھا، انہوں نے عمران خان کو 126دنوں میں تھکا دیا تھا، ایمپائر کی انگلی کھڑی نہیں ہوئی تھی۔اب توایمپائر ویسے ہی حکومت کے ساتھ ہے، لہذا ان کو آنے دیں اور کہیں بیٹھ جائیں۔جلسہ کرنا ہے کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک چیز واضح ہے کہ ہم کہتے ہیں نوازشریف اور شہبازشریف میں اختلاف ہے۔ لیکن دونوں بھائی ایک دوسرے کے بیانیئے کے قریب ہیں۔یہ کوئی نہیں چاہتا کہ نظام لپیٹ دیا جائے، اگر سسٹم لپیٹا گیا تو بڑی سختی ہوگی۔

تاریخ اشاعت : پیر 21 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp