حکومت نے انصار الاسلام پر پابندی عائد کر دی

جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم کو شدت پسند کاروائیوں کیلئے تیاری کرنے پر کالعدم قرار دیا گیا

اسلام آباد : حکومت نے انصار الاسلام پر پابندی عائد کر دی، جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم کو شدت پسند کاروائیوں کیلئے تیاری کرنے پر کالعدم قرار دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
انصار الاسلام جمیعت علمائے اسلام ف کی ذیلی تنظیم ہے جس حکومت کیخلاف شدت پسند کاروائیوں کی تیاریاں کرنے کے جرم میں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جمیعت علمائے اسلام ف نت موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کیخلاف عدالت جائیں گے اور عدالت کے ذریعے حکومت کے فیصلے کو ختم کروایا جائے گا۔ واضح رہے کہ 2 روز قبل خبر سامنے آئی تھی کہ حکومت نے جمعیت علمائے اسلام ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت داخلہ نے جمعیت علمائے اسلام ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کے لیے سمری وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو ارسال کی تھی۔ سمری میں کہا گیا کہ جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم لٹھ بردار ہے اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ وزارت قانون کو بھیجی گئی سمری میں کہا گیا ہے کہ قانون میں کسی قسم کی مسلح ملیشیا کی اجازت نہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ جے یو آئی میں شامل تنظیم پارٹی منشور کی شق نمبر 26 کے تحت الیکشن کمیشن میں بھی رجسٹرڈ ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل جے یو آئی ف کے باوردی محافظ دستے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان محافظ دستے سے سلامی لے رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جے یو آئی ف کے محافظ دستے کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی کیا تھا۔ جبکہ اب وفاقی حکومت نے باقاعدہ طور پر انصار الاسلام کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

تاریخ اشاعت : پیر 21 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp