مولانا فضل الرحمان کی پاکستان کے دشمن اجیت دوول کیساتھ ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

بھارتی وزیراعظم کا سیکورٹی مشیر پاکستان میں دہشت گردی کرنے والی تنظیموں کی پشت پناہی میں ملوث ہے، جے یو آئی ف کے امیر سے ملاقات کی تصویروں پر سوال اٹھایا دیا گیا

لاہور : مولانا فضل الرحمان کی پاکستان کے دشمن اجیت دوول کیساتھ ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل، بھارتی وزیراعظم کا سیکورٹی مشیر پاکستان میں دہشت گردی کرنے والی تنظیموں کی پشت پناہی میں ملوث ہے، جے یو آئی ف کے امیر سے ملاقات کی تصویروں پر سوال اٹھایا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ایک متنازعہ تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا رکھی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر میں مولانا فضل الرحمان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سیکورٹی مشیر اور قریبی ساتھی اجیت دوول کیساتھ بیٹھے ہیں۔ اجیت دوول کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والی تنظیموں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں اور ہر وقت پاکستان کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کرنے اور آرٹیکل 370 ختم کرنے کا ماسٹر مائینڈ بھی اجیت دوول کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔
اب مولانا فضل الرحمان کی اجیت دوول کیساتھ ملاقات کے بعد سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مولانا نے پاکستان کے دشمن سے کب اور کیوں ملاقات کی۔ مولانا فضل الرحمان کو پاکستان کے دشمن اجیت دوول کیساتھ ملاقات کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ اس تصویر کے سامنے آنے کے بعد مولانا فضل الرحمان کے حکومت مخالف آزادی مارچ کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر اٹھائے جانے والے سوالات اور تنقید کا جے یو آئی ف تاحال کوئی جواب نہیں دے پائی۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے بھی مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ ایک ایسا وقت جب پورے ملک کی توجہ کشمیر پر مرکوز تھی اور پاکستان کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑنے میں مصروف تھا، ایسے وقت میں مولانا نے آزادی مارچ کا اعلان کر کے کشمیر کے مسئلے سے تمام توجہ ہٹوا دی ہے۔

تاریخ اشاعت : پیر 21 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp