سی پیک پاکستان کے لئے بڑا موقع ہے اور ہم اس پر آگے بڑھ رہے ہیں، بجلی کے منصوبوں میں ایندھن کے مقامی ذرائع سے استفادہ کیا جانا چاہیے، موجودہ حکومت کی شفافیت اور گڈ گورننس کی بدولت غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ ہیں،

, کاروبار میں مزید آسانی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے، چین ماہی پروری اور زرعی شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے , , وزیراعظم عمران خان کا چائنہ حب پاور جنریشن پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب

حب ۔ : وزیراعظم عمران خان نے سی پیک کے تحت پاکستان اور چین کے پہلے مشترکہ پاور پلانٹ کے منصوبے کو ملک کے لئے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کے لئے بڑا موقع ہے اور ہم اس پر آگے بڑھ رہے ہیں، بجلی کے منصوبوں میں ایندھن کے مقامی ذرائع سے استفادہ کیا جانا چاہیے، موجودہ حکومت کی شفافیت اور گڈ گورننس کی بدولت غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے آمادہ ہیں، کاروبار میں مزید آسانی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے، چین ماہی پروری اور زرعی شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، ہمیں اپنے نوجوانوں کو جدید ہنر اور تربیت دے کر اثاثہ بنانا ہے جو ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو 1320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے چائنہ حب پاور جنریشن پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وفاقی وزیر بحری امور علی حیدر زیدی اور پاکستان میں چین کے سفیر یائو جنگ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ قبل ازیں وزیراعظم نے سی پیک کے تحت پہلے مشترکہ چائنہ حب پاور جنریشن پلانٹ کا افتتاح کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حب پاور جنریشن پلانٹ کے افتتاح پر خوشی ہے، سی پیک کے تحت یہ پہلا مشترکہ منصوبہ ہے، اس سلسلے کو ہم آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی بڑی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آنے کی خواہاں ہیں، پاکستان کے کاروباروں، صنعتوں اور ایس ایم ایز کے چینی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچرز چاہتے ہیں جو پاکستان کے لئے خوش آئند ہو گا، حکومت اس سلسلے میں ہر مکمن تعاون اور سہولیات فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے حبکو پر زور دیا کہ وہ اس منصوبے کے ایندھن کا 20 فیصد تھر کول سے حاصل کرے، اس سے ملک کے خطیر زرمبادلہ کی بچت ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکائونٹ خسارے کا ہے جب ہماری حکومت آئی تو اس وقت 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ تھا جس کی وجہ سے روپے پر دبائو بڑھا اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بجلی کے منصوبوں کے لئے مقامی وسائل کو بروئے کار لایا جائے، پاکستان میں 50 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی میں پانی، گیس اور کوئلے کے وسائل سے استفادہ کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہم مقامی ذرائع سے بجلی بنائیں گے تو اس کا فائدہ کاروبار اور صنعت کو بھی ہو گا جس سے کاروباری و پیداواری لاگت کم ہو گی۔ وزیراعظم نے کراچی کے لئے سمندری پانی صاف کرنے کے منصوبوں پر کام شروع کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ پینے کے پانی کا مسئلہ حل ہو سکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سرخ فیتہ اور بدعنوانی کی غرض سے تاخیری حربے رہے ہیں، ہم نے اس مسئلہ پر توجہ دی ہے اور کاروبار میں آسانی پیدا کی ہے جبکہ اس سلسلے میں مزید کام بھی کیا جائے گا جس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے اس حوالے سے وزیراعظم آفس اور سرمایہ کاری بورڈ مسلسل کوشاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کی وجہ سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ہے، ریکوڈک میں کام کرنے والی کمپنی نے رابطہ کیا ہے، وہ موجودہ حکومت کی شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف عزم کے پیش نظر دوبارہ کام شروع کرنے پر آمادہ ہے، صوبہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ریکوڈک میں کام کرنے والی کمپنی نے یہاں کے سونے اور تانبے کے ذخائر کو دنیا میں سب سے بہتر قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں 22 سال سے کہہ رہا ہوں کہ سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، ماضی میں چھوٹے سے ٹولے نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہوئی، ہماری حکومت میں بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ نے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک میں صاف اور شفاف گورننس دینی ہے جو مستقبل کے لئے ضروری ہے، آج ملک کے مقروض ہونے کی ایک وجہ یہی ہے کہ یہاں بہتر اسلوب حکمرانی قائم نہیں کئے جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آنے والا وقت سی پیک کے حوالے سے بہت اہم ہو گا، یہ منصوبہ پاکستان کے لئے بڑا موقع ہے اور ہم اس پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لئے خوشخبری ہے کہ چین ماہی پروری اور زرعی شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، ہم چین کے زرعی تجربات اور مہارتوں سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے صدر اور وزیراعظم بیلٹ اینڈ روڈ کے فلیگ شپ منصوبہ سی پیک میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اس منصوبے کو اگلے مرحلے میں لے جانے کے لئے پاکستان نے سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے اس کی سٹریٹجک حیثیت اور نوجوان آبادی بہت اہم ہے، ہمیں اپنی نوجوان آبادی کو فعال بنانا ہے اور اس مقصد کے لئے چین کی معاونت سے جدید ترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سمیت اہم شعبوں کے تربیتی مراکز کھولے جائیں گے، ہمیں اپنے نوجوانوں کو ہنر اور تربیت دے کر ملک کا اثاثہ بنانا ہے جو پاکستان کو آگے لے کر جائیں گے۔
وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان پر زور دیا کہ لسبیلہ میں خصوصی اقتصادی زون قائم کیا جائے، بیرونی سرمایہ کار یہاں آنا چاہتے ہیں، انہیں آسانی فراہم کرنا ازحد ضروری ہے۔ وزیراعظم نے حبکو کے ساتھ مل کر 1320 میگاواٹ کا منصوبہ لگانے پر چائنہ پاور کا شکریہ ادا کیا اور اس منصوبے پر کام کرنے والے چینی ورکرز کے ساتھ ساتھ پاکستان کی متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو بھی سراہا۔
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی تعمیر و ترقی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور حب پاور جنریشن پلانٹ اس کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر سرمایہ کاروں کے لئے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے، چین سمیت غیر ملکی سیاحوں کے لئے سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہیں، ہم چینی سرمایہ کاروں کو پیشکش کرتے ہیں کہ وہ سرمایہ کاری کے سازگار ماحول سے فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے کہا کہ گوادر سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو گی اور آئندہ چند برسوں میں بلوچستان سرمایہ کاری کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مل کر سرمایہ کاروں کے لئے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں جس سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول کے لئے کام جاری ہے اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے بلوچستان میں سرمایہ کاری آئے گی۔

تاریخ اشاعت : پیر 21 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp