بھارتی حکومت نے سیاچن کو سیاحوں کے لیے کھول دیا

بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ٹویٹر پیغام میں اعلان کیا

نئی دہلی : : بھارتی حکومت نے سیاچن کو سیاحوں کے لیے کھول دیا ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا کہ اب کوئی بھی سیاح سیاچن کی سیر کو جا سکتا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سیاچن بیس کیمپ سے کُمار پوسٹ تک کا سارا علاقہ سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ لداخ میں شیوک دریا کے کرنل چیوانگ رنجن پُل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ لداخ بڑی تعداد میں سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لداخ میں بہتر ذرائع ابلاغ بڑی تعداد میں سیاحوں کا رُخ اس طرف موڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں تقریباً 20 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع سیاچن کے محاذ کو دنیا کا ایک انوکھا جنگی محاذ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں گذشتہ 35 برس سے پاکستان اور بھارت کی افواج مدِمقابل ہیں اور یہ جنگ پاکستان اور بھارت کے لیے ایسا دلدل بن چکی ہے جس سے نکلنا مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے لیے ممکن نظر نہیں آتا۔
اس طویل عرصے میں تقریباً تین سے پانچ ہزار فوجی اور کروڑوں ڈالرز گنوانے کے باوجود دونوں ممالک کے عسکری حکام اس محاذ سے واپسی پر تاحال قائل نہیں ہو سکے ۔ گذشتہ 16 سالوں سے سیاچن پر بندوقیں استعمال نہ ہونے کے باوجود دونوں فریقین اپنے بنیادی موقف پر کسی قسم کی بھی لچک دکھانے سے قاصر ہیں۔ سیاچن گلیشیئر پر درجہ حرارت منفی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں رہنے والے فوجیوں کی اکثریت مخالف فوج کے ساتھ جھڑپوں میں جان سے نہیں گئے بلکہ یہ لوگ برفانی طوفانوں، شدید سردی میں اعضا سن ہو جانے اور انتہائی بلندی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ اکثر فوجیوں کو انتہائی بلندی پر ہونے کی وجہ سے سانس میں تکلیف، سر درد اور بلڈ پریشر کے مسائل شروع ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے فوجیوں کو ہر وقت برفانی لباس (اِگلو) میں ملبوس رہنا پڑتا ہے۔

تاریخ اشاعت : پیر 21 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp