جے یوآئی (ف) نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی

حکومتی مذاکراتی ٹیم کو کل رات ساڑھے 8 بجے کا وقت دیا ہے، ان کا استقبال کریں گے، مذاکرات میں سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان شرکت نہیں کریں گے۔ جمعیت علماء اسلام (ف)کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کی گفتگو

لاہور : جمعیت علماء اسلام (ف) نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کو کل رات ساڑھے 8 بجے کا وقت دیا ہے، ان کا استقبال کریں گے، مذاکرات میں سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان شرکت نہیں کریں گے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے بالآخر مذاکراتی ٹیم تو تشکیل دے دی ہے، لیکن پرسوں وزیراعظم نے جو لہجہ اختیار کیا ، ایک طرف طبل جنگ اور دوسری طرف مذاکرات کرتے ہیں، رہی سہی کسر وزیردفاع نے پوری کردی، کہتے ہم مذاکرات کریں گے پھردھمکی آمیز جملے ادا کیے۔
ایک تو آپ کو پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم اب بنی ہے، پرویز خٹک بتائیں ہم سے کن لوگوں نے رابطے کیے ہیں؟ کل ہمارے ساتھ صادق سنجرانی کارابطہ ہوا ہے ، میں نے اس رابطے بارے مولانا فضل الرحمان کو آگاہ کیا۔ ہمارا مئوقف بڑا واضح ہے، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ وہ کل کیا لے کرآرہے ہیں؟ ہمارے مطالبات اور مئوقف 26 جولائی 2018ء کو متحدہ اپوزیشن کے بیانیہ سامنے ہے۔
وہ جو تجاویز لے کرآئیں گے ان کو دیکھیں گے۔انہو ں نے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کو کل رات ساڑھے 8 بجے کا وقت دیا ہے، ان کا استقبال کریں گے، مذاکرات میں سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان شرکت نہیں کریں گے، مذاکرات میری رہائشگا ہ پر ہوں گے۔ دوسری جانب وزیردفاع اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ پرویز خٹک نے آج یہاں اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپوزیشن کو بلایا لیکن آپ نہیں آئے ، اگر اب بھی آپ ہمارے ساتھ بات چیت نہیں کرتے تو اس کا مطلب ان کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔
لیکن کم ازکم ہم اپنا فرض ادا کرچکے ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں اگر افراتفریح پھیلی تو پھر ذمہ دار یہ خود ہوں گے، حکومت نے آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں پھر سب کو برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایشو موجودہ حالات میں پیچھے چلا گیا ہے۔ ہم نے ن لیگ ، پیپلزپارٹی، اے این پی ، جے یوآئی ف سب کو پیغام بھیجا ہے۔ یہ مت سمجھیں ہم نے کسی خوف میں کمیٹی بنائی ہے۔
حکومت میں صرف پی ٹی آئی نہیں بیٹھی بلکہ ایک نظام ہے۔ ہم نے اپنے کارڈ اوپن کردیے ہیں پھر نہ کہنا حکومت ایسا کررہی ہے۔ ان کو ڈر ہے اگر عمران خان نے 5 سال گزار لیے تو پھر ان کی کوئی جگہ نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے، دھرنے والے چڑھائی نہ کریں، وقت ضائع کیے بغیر بات کریں۔پاکستان کا آئیں کہنا ہے کہ مسلح جتھوں کو چڑھائی کی اجازت نہیں ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 19 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp