دُبئی: پاکستانی نوجوان نے نوکری سے نکالنے پر دوست کی گاڑی کو آگ لگا دی

پولیس کے مطابق ملزم نے جس وقت یہ حرکت کی، اُس وقت وہ نشے کی حالت میں تھا

دُبئی : دُبئی میں مقیم ایک پاکستانی نوجوان نے نوکری سے نکالے جانے پر اپنے دوست کی گاڑی کو آگ لگا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے جب یہ واردات انجام دی اُس وقت وہ نشے کی حالت میں تھا۔ ملزم نے پارکنگ میں کھڑی ساتھی ملازم کی گاڑی پر پٹرول چھڑکا اور پھر اُسے آگ لگا کر موقع سے فرار ہو گیا۔ ساتھی ملازم کی گاڑی پُوری طرح جل کر بالکل تباہ و بر باد ہو گئی۔
پولیس نے رپورٹ درج کروانے پر 30 سالہ ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ایک پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ اپنے دوست کی کمپنی میں ہی ملازمت کرتا تھا، چند روز قبل اُس کے دوست باس نے اُسے نوکری سے فارغ کر دیا، تو اُسے اس بات پر شدید طیش آیا، اسی کا بدلہ لینے کی خاطر اُس نے دوست کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی کو اُس وقت آگ لگائی جب وہ اپنی رہائش گاہ پر آرام کر رہا تھا۔
ملزم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ واردات انجام دیتے وقت اُس نے شراب پی رکھی تھی۔ایک عینی شاہد نے عدالت کو بتایا کہ اُس نے پاکستانی نوجوان کو خود اپنی آنکھوں سے گاڑی پر پٹرول چھڑک کر اُسے آگ لگاتے اور پھر وہاں سے فرار ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ اُسی نے گاڑی میں سے شعلے بھڑکتے دیکھ کر پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی تھی۔ آگ بجھانے والے عملے نے بروقت پہنچ کر گاڑی کو لگی آگ پر قابو پا لیا ورنہ یہ آگ وہاں کھڑی دیگر گاڑیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے والی تھی۔
تاہم ملزم نے عدالت میں اپنے خلاف عائد الزامات کو درست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ملزم کو اس سے قبل عدالت کی جانب سے 6 ماہ قید اور 10 ہزار درہم جرمانے کی سزا سُنائی گئی تھی۔ جس کے خلاف اُس نے اپیل کورٹ سے رجوع کیا۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُس سے زبردستی اعترافِ جُرم کروایا گیا۔ درحقیقت اُس کے سابقہ باس کی گاڑی میں شدید گرمی کے باعث آگ بھڑک اُٹھی تھی، ملزم نے گاڑی کو آگ نہیں لگائی۔ اس مقدمے کا فیصلہ 27 اکتوبر 2019ء کو سُنایا جائے گا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 18 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp