ترک صدر طیب اردگان نے شام میں فوجی آپریشن بند کرنے کا اعلان کر دیا

ترک میڈیا نے تصدیق کر دی، امریکا کی جانب سے فیصلے کا خیر مقدم، روس نے کرد جنگجو ترک سرحد سے دور رکھنے کی یقین دہانی کروا دی

انقرہ : ترک صدر طیب اردگان نے شام میں فوجی آپریشن بند کرنے کا اعلان کر دیا، ترک میڈیا نے تصدیق کر دی، امریکا کی جانب سے فیصلے کا خیر مقدم، روس نے کرد جنگجو ترک سرحد سے دور رکھنے کی یقین دہانی کروا دی۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ترکی سے بڑی خبر آئی ہے کہ ترکی شام میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن روکنے پر رضا مند ہو گیا جس سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہو جائیں گی ۔
اس حوالے سے امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ ترکی شام میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن روکنے پر رضا مند ہو گیاہے اور ترکی شمالی شام میں اپنا آپریشن مکمل روک دے گا۔ امریکہ نائب صدر کے اس بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے شمالی شام میں آپریشن روکنے کا خیرمقدم کیا ہے۔ جبکہ ترک میڈیا کی جانب سے بھی بتایا جا رہا ہے کہ ترک وزیر خارجہ نے شام میں آپریشن روکنے کی تصدیق کی ہے ۔
اس سے قبل امریکا نے کرد باغیوں کیخلاف آپریشن شروع کرنے پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس حوالے سے روس نے ترکی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ کرد باغیوں کو ترکی کی سرحد کے قریب جانے سے روکا جائے گا۔ کرد جنگجو کسی صورت ترکی کی سرحد کے قریبی علاقوں کا رخ نہیں کریں گے۔ روس نے کہا ہے کہ ترک سرحد سے ملحقہ علاقوں کا کنٹرول شام کی حکومت کے پاس ہونا چاہیئے۔
دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کا کہنا ہے کہ شام کے شمال مشرق میں شروع ہونے والے ترکی کے حملے کے بعد سے اب تک 71 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ 3 لاکھ کے قریب افراد اپنے علاقوں سے دربدر ہو گئے۔المرصد نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 21 افراد کو ترکی کے ہمنوا شامی اپوزیشن گروپوں کی جانب سے گولیاں ماری گئیں یا موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
ان میں ایک بچہ اور تین خواتین شامل ہیں۔اسی طرح راس العین شہر اور اس کے اطراف واقع ایک گاؤں ریحانیہ پر ترکی کے فضائی حملوں میں 19 افراد مارے گئے۔ ہلاک شدگان میں ایک خاتون اور دو مقامی صحافی شامل ہیں۔تل ابیض کے علاقے کے اطراف زمینی گولہ باری کے نتیجے میں کرد خود مختار انتظامیہ کے 7 ملازمین جاں بحق ہو گئے۔القامشلی شہر پر ترکی کے میزائل حملے میں دو بچوں ، ایک خاتون اور دو عمر رسیدہ افراد سمیت 6 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
الحسکہ صوبے میں راس العین کے اطراف دیہی علاقے میں ترک بم باری سے ایک بچے سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح تل ابیض کے علاقے میں الباجیہ گاؤں پر ترکی کے جنگی طیاروں کی یلغاروں میں 4 افراد موت کی نیند سلا دیے گئے۔ایک ہفتے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں تل ابیض کے زیر انتظام دیہات میں نشانچیوں کی کارروائی کے سبب مارے جانے والے 3 افراد شامل ہیں۔
ان کے علاوہ القحطانیہ کے دیہی علاقے میں گولہ باری سے ایک بچی، الدرباسیہ شہر میں ترکی کے نشانچی کی گولی سے ایک مرد، القامشلی شہر میں ترک فوجی کی فائرنگ سے ایک خاتون، المالکیہ کے دیہی علاقے میں قصر دیب گاؤں کے اطراف ترکی کی راکٹ باری سے ایک مرد اور منبج شہر کے شمال میں الفارات گاؤں پر ترکی کے ہمنوا شامی اپوزیشن گروپوں کی گولہ باری سے 2 افراد ہلاک ہوئے۔
اسی سیاق میں المرصد گروپ نے متاثرہ علاقوں میں جاری شدید لڑائی اور فضائی اور زمینی بم باری کے سبب شہریوں کی مسلسل نقل مکانی پر بھی نظر رکھی ہے۔المرصد کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ مسلسل بم باری اور جھڑپوں کے سبب علاقے کی صورت حال ابتر ہو چکی ہے اور بجلی پیدا کرنے والے اسٹیشن بھی ناکارہ ہو گئے ہیں۔
المرصد نے تصدیق کی ہے کہ متعدد شہر، قصبے اور دیہات مکمل طور پر آبادی سے خالی ہو چکے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت کھلے آسمان تلے بیٹھی ہے۔المرصد کے مطابق پانچ روز منقطع رہنے کے بعد الحسکہ شہر میں ایک بار پھر پانی کی فراہمی شروع ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ نقل مکانی کرنے والوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے اس شہر میں درجنوں ٹرک انسانی امداد لے کر پہنچے ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 18 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp