ایف اےٹی ایف پاکستان کوبلیک لسٹ کی بجائے گرےلسٹ میں ہی رکھےگا

انڈیا اور دشمن طاقتوں کی کوشش تھی کہ پاکستان بلیک لسٹ ہوجائے، پاکستان نے شرائط کے مطابق 95 فیصد مثبت کام کیے، سارا کریڈٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹیلی جنس اداروں کو جاتا ہے۔سینئر صحافی کا تبصرہ

لاہور : ایف اے ٹی ایف پاکستان کوبلیک لسٹ کی بجائے گرے لسٹ میں ہی رکھے گا، انڈیا اور دشمن طاقتوں کی کوشش تھی کہ پاکستان بلیک لسٹ ہوجائے، پاکستان نے شرائط کے مطابق 95فیصد مثبت کام کیے،ساراکریڈٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹیلی جنس اداروں کو جاتا ہے۔سینئر تجزیہ کار صحافی صابر شاکر نے ایف اے ٹی ایف پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت اور کچھ طاقتوں کی کوشش تھی کہ ایف اے ٹی ایف کے ذریعے پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے، جس کے تحت پاکستان پر کچھ پابندیاں عائد کرنی تھی اور معاشی طور پر تباہ بھی کرنا تھا،لیکن پاکستان کو اس بات کا علم ہوا،پاکستان مسلسل گرے لسٹ میں پے، منی لانڈرنگ اورکالعدم تنظیموں اورمدارس اصلاحات کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے، اس کا کریڈٹ انٹیلی جنس اداروں کو جاتا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کریڈٹ جاتا ہے، کہ بیک ڈور چینل پر سابق وزیر اعظم نوازشریف اور اسحاق ڈار کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔کہ یہ منصوبہ بندی ہوچکی ہے اس کے حوالے سے تیاری کرلیں ۔لیکن سیاسی مصلحتوں کی بناء پر انہوں نے کام نہیں کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم گرے لسٹ میں چلے گئے۔ پاکستان نے 95فیصدمثبت کام کیے۔ اگر کوئی اور ملک ہوتا تووہ ایف اے ٹی ایف سے نکل چکا ہوتا۔
اس میں سیاسی چیزیں شامل ہیں۔ انڈیا اور طاقتوں کی کوشش ہے کہ پاکستان بلیک لسٹ میں چلا جائے،پاکستان کو بلیک لسٹ کی بجائے گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے۔اور پاکستان کو آئندہ کیلئے مزید اقدامات اٹھانے کا کہا جائے گا۔انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران پر کہا کہ دھرنے والوں کے ارادے اچھے نہیں ہیں، ان کو نظر اندازنہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بہت زیادہ تناؤ اور غلط فہمیاں ہیں، دونوں ایک دوسرے کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے۔طاقتورقوتیں بھی چاہتی ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ ہو، تاکہ ان کا اسلحہ فروخت ہواور مسلمان بھی کمزور ہوجائیں۔یمن اور شام میں بھی شیعہ سنی والے معاملات چل رہے ہیں۔سعودی آئل ریفائنری پر میزائل داغ دیے گئے، اس سے حالات مزید خراب ہوگئے، پاکستان سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کررہا ہے۔
ان کو خبردار کیا ہے کہ یہ معاملہ سادہ نہیں ہے۔بلکہ کچھ قوتیں دونوں ملکوں کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں۔ایران کو کچھ معلومات دی گئی ہیں ، کہ سعودی عرب اور ایران کی لڑائی کوئی اور شروع کروانا چاہتا ہے۔ لہذا خطے میں امن واستحکام کیلئے دونوں ممالک کوتحمل سے سوچنا چاہیے۔ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی کچھ انٹیلی جنس معلومات شیئر کی ہیں، ایرانی لیڈرشپ نے ان معلومات پر اعتماد کیا اور مصدق مانا ہے۔
وزیراعظم عمران خان اب ایرانی قیادت کا پیغام لے کرسعودی عرب جائیں گے۔ جہاں وزیراعظم عمران خان چیزیں سعودی ولی عہد کے ساتھ شیئر کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران سے برف ضرور پگھلی ہے۔ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات ایرانی انٹیلی جنس چیف کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔ پاکستان قیادت نے ان سے بھی کافی چیزیں شیئر کی ہیں۔سعودی عرب میں سعودی انٹیلی جنس چیف سے بھی تمام چیزیں شیئر کی جائیں گی۔

تاریخ اشاعت : اتوار 13 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp