باپ بیٹا قتل کیس؛ گھر کے بھیدی کے ملوث ہونے کا شبہ

ملزمان گھر میں آئے،لیپ ٹاپس،موبائل فونز،زیورات اور دیگر بھاری قیمتی اشیاء کو ہاتھ لگائے بغیر برہنہ حالت میں سوئے ہوئے 22 سالہ بیٹے پر تیز دھار آلے سے 14 وار جب کہ والد پر 4 وار کر کے چلے گئے، تفتیش میں اہم سوالات کھڑے ہو گئے

کراچی : تین روز قبل کلفٹن کے حساس سیکیورٹی علاقے میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور جواں سال بیٹے کو گھر میں قتل کر دیا گیا تھا۔کلفٹن میں سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھے جانے والے علاقے میں بلاک 4میں باپ بیٹے کے دہرے قتل کی واردات ہوئی،یہ افسوسناک واقعہ صبح ساڑھے 6 بجے سے 8 بجے کے درمیان پیش آیا۔ پولیس کے مطابق 65 سالہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر فصیح عثمانی اور ان کے صاحبزادے کامران جن کی عمر 22 سال ہے، دونوں کی لاشیں ان کے بیڈ روم سے ملیں۔
واردات کے وقت دونوں باپ بیٹا سوئے ہوئے تھے۔جب کہ فصیح عثمانی کی اہلیہ کے مطابق وہ صبح ساڑھے 6 بجے معمول کی واک کرنے گھر سے باہر گئیں۔ اس وقت شوہر اور بیٹا سو رہے تھے۔واپس آنے پر گھر کی اطلاعی گھنٹی بجا کر انہیں نیند سے جگانا نہ پڑے۔ اس لیے وہ واپس آنے کے لیے گھر کا پچھلا چھوٹا دروازہ کھلا چھوڑ گئیں۔واک کے بعد جب خاتون گھر پہنچیں تو قیامت کا مظر تھا۔
شریک حیات اور ان کے لخت جگر کی لاشیں بیڈ روم میں خون میں لت پٹ پڑی تھیں۔ایس ایچ اوکلفٹن پیر شبیر کے مطابق نقدی ، لیپ ٹاپس،موبائل فونز،زیورات اور دیگر بھاری قیمتی اشیاء گھر میں جوں کا توں موجود ہے،اور ملزمان نے بظاہر کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے لاشیں اٹھانے کے دوران سامنے آنے والے ایک اہم نکتے کا تسلی بخش جواب نہیں مل سکا کہ مقتول پروفیسر کا بیٹا 22 سالہ کامران عثمانی قتل کے وقت برہنہ کیوں تھا۔
اس سلسلے میں مقتول کی والدہ کا کہنا ہے کہ امریکی شہریت کے حامل اور اس معاشرے میں پروان چڑھنے والے ان کے صاحبزادے کی برہنہ ہو کر سونے کی بچپن کی عادت تھی،پولیس اس نقطے سے جڑے دوسرے معاملے کی گتھی بھی سلجھانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ملزم نے مقتول کامران عثمانی کو قتل کرنے کے لیے تیز دھار آلے کے غیر معمولی 14 سے زائد وار کیوں کیے؟۔جب کہ مقتول فصیح عثمانی پر تیز دھار آلے کے محض چارو ار کیے گئے۔
یس ایس پی انوسٹی گیشن طارق دھاریجو نے بتایا کہ گھر میں چوکیدار اورسی سی ٹی وی کیمرہ نہیں ہے ۔واردات میں کوئی گھر کا بھیدی ملوث لگتا ہے۔پولیس کا مزید بتانا ہے کہ یہ خاندان کراچی سے امریکا منتقل ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔کلفٹن کے جس گھرمیں یہ واردات ہوئی وہاں سندھ حکومت کی اہم شخصیات بھی رہائش پذیر ہیں۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 12 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp