ٹرمپ دور میں امریکی قومی سلامتی کے چوتھے سربراہ مستعفی

کیون مک الینن حکومت کیساتھ کئی سال گزارنے کے بعد اپنی فیملی کو وقت دینا چاہتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن : امریکا کی قومی سلامتی کے سربراہ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکہ کے قائم مقام قومی سلامتی کے سربراہ کیون مک الینن نے اپنی تعیناتی کے 6 ماہ بعد ہی عہدے سے استعفیٰ دیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ کے ذریعے کیون مک کے استعفے کی تصدیق کی اور بتایا کہ حکومت کے ساتھ کئی سال گزارنے کے بعد کیون مک اپنی فیملی کو زیادہ وقت دینا چاہتے تھے اور وہ نجی سیکٹر میں جانا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ نئے قومی سلامتی کے سربراہ کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔امریکی صدر نے عہدہ چھوڑنے والے قومی سلامتی کے سربراہ کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم نے بارڈر کراسنگ کو کم کرنے کے لیے ساتھ کام کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کیون مک امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی کے چوتھے سربراہ تھے، انہوں نے امریکی صدر کی اٴْن سخت پالیسیوں کی نگرانی کی جس کا مقصد میکسیکو کی سرحد سے آنے والے مہاجرین کو روکنا تھا۔مک کیون کو اپریل میں کرسجن نیلسن کے استعفے کے بعد قومی سلامتی سیکیورٹی کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 12 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp