کراچی میں باپ بیٹے کاقتل، نوجوان کی برہنہ لاش نے کئی سوالات اٹھا دئیے

امریکی معاشرے میں پروان چڑھنے کی وجہ سے صاحبزادے کی برہنہ ہو کر سونے کی بچپن کی عادت تھی۔ والدہ کا موقف

کراچی : کراچی پولیس کی تین دن تک کی سر توڑ کوششوں کے باوجود کلفٹن میں باپ بیٹے کے قتل کا معمہ حل نہیں ہو سکا۔پولیس پانچ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔واردات کے بعد گھر پہنچنے والی مقتول ڈاکٹر اہلیہ مسز عافیہ سے تفصیلی ملاقات کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ جب خاتون واک کرنے کے بعد گھر پہنچیں تو دہرے قتل کی واردات ہو چکی تھی،پولیس اس سوال کا تسلی بخش جواب حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے کہ خاتون نے گھر پہنچنے کے فوری بعد پولیس کو واقعہ کی اطلاع کیوں نہیں دی؟۔
پولیس کے مطابق مددگار پولیس کو کال 8 بج کر 40 منٹ پر کی گئی۔پولیس اس گتھی کو سلجھانے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ گھر کا چھوٹا بیرونی دروازہ کھلا ہونے پر ملزم گھر کے اندر تک تو آ گیا مگر اس نے گھر کے اندرونی مقفل کمرے کا دروازہ کھولا،دروازوں کو توڑنے یا زور آزمائی کرنے کی بھی کوشش نہیں کی گئی۔کچھ عرصہ قبل مقتول فصیح عثمانی اور ان کی فیملی کی اس بنگلے کی بالائی منزل پر رہائش پذیر کرایہ داروں سے معمولی تکرار ہوئی تھی۔
تاہم معمولی سے جھگڑا دہرے قتل کی وجہ نہیں ہو سکتا۔پولیس کا مزید کہنا ہے کہ خاندان کا امریکا آنا جانا تھا جس کے لیے انہوں نے کچھ عرصہ قبل گھریلو ملازم کو کام سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد سے کوئی چوکیدار یا گھریلو ملازم نہیں رکھی۔پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے لاشیں اٹھانے کے دوران سامنے آنے والے ایک اہم نکتے کا تسلی بخش جواب نہیں مل سکا کہ مقتول پروفیسر کا بیٹا 22 سالہ کامران عثمانی قتل کے وقت برہنہ کیوں تھا۔
اس سلسلے میں مقتول کی والدہ کا کہنا ہے کہ امریکی شہریت کے حامل اور اس معاشرے میں پروان چڑھنے والے ان کے صاحبزادے کی برہنہ ہو کر سونے کی بچپن کی عادت تھی،پولیس اس نقطے سے جڑے دوسرے معاملے کی گتھی بھی سلجھانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ملزم نے مقتول کامران عثمانی کو قتل کرنے کے لیے تیز دھار آلے کے غیر معمولی 14 سے زائد وار کیوں کیے؟۔جب کہ مقتول فصیح عثمانی پر تیز دھار آلے کے محض چارو ار کیے گئے۔
خیال رہے کہ کلفٹن میں بنگلے سے باپ بیٹے کی خون میں لت پت لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ پولیس کے مطابق مقتولین کو چھریاں مار کر قتل کیا گیا۔ ملزمان کا تاحال سراغ نہ مل سکا، قتل ہونے والوں شناخت ڈاکٹر فصیح عثمانی اور ان کے بیٹے کامران کی حیثیت سے کی گئی تھی۔ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی تاحال ملزمان کے بارے میں کوئی سراغ نہ مل سکا۔ آئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لیکر رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 12 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp