ترکی کی فوجی کارروائی سے داعش دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے، ولادیمیرپیوٹن

ترکی فوجی کارروائی کے دوران یقینی بنائے کہ شمالی شام میں اس کے اقدامات متوازن ہیں ،مقامی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ نہیں ہوگا، سیکرٹری جنرل نیٹو

ماسکو : روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبر دار کیا ہے شمال مشرقی شام میں حراست میں لئے گئے’داعش‘کے عسکریت پسند وہاں پر ترک فوجی کارروائی کے نتیجے میں فرار ہوسکتے ہیں اس طرح داعش شام میں دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔روسی میڈیا کے مطابق صدر پیوٹن نے یہ بات ترکمانستان کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ ترکی اس صورتحال پر قابو پا سکتا ہے یا نہیں۔
نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے ایتھنس میں یونانی وزیر اعظم کریاکوس مائوسوتاکس سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ترکی کو سختی سے کہا ہے کہ وہ شام میں فوجی کارروائی کے دوران اس بات کو یقینی بنائے کہ شمالی شام میں اس کے اقدامات متوازن اور متناسب ہیں اور ان کیے نتیجے میں مقامی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے مشترکہ دشمن داعش کے خلاف مشترکہ جنگ میں یکجہتی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔اسٹولٹن برگ نے کہا کہ بین الاقوامی اتحاد نے داعش کے خلاف اتنی بڑی پیش قدمی کی ہے کہ داعش کے قبضے سے برطانیہ کے رقبے کے برابر زمین واگزار کرائی گئی ہے۔نیٹو سربراہ نے کہا کہ ہمیں داعش کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کا تحفظ کرنا ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 12 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp