گولی کا خول پولیس افسر کی جان بچا گیا

کراچی میں پولیس افسر پر قاتلانہ حملہ

لاہور ۔ :   پولیس آفیسرجو ہر وقت ڈکیتوں اور دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے چاق چوبند ہوتے ہیں اکثر اوقات دہشت گرد بھی ان کے خاتمہ کے لیے منصوبہ بندی کررہے ہوتے ہیں۔ آج تک کئی پولیس افسران کو انہی ڈکیتوں اوردہشت گردوں نے شہید کیا جن کی سرکوبی کا پولیس افسران نے عزم کر رکھا ہے۔گزشتہ روز کراچی میں پولیس آفیسر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس کی خوش قسمتی سے جان بچ گئی۔
تاہم ملزمان کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لی جا رہی ہے۔ شارع قائدین اور خداداد کالونی سگنل کے اطراف کے علاقے کے مختلف کیمروں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی گئی ہیں جن میں ایک کیمرے کی فوٹیج پولیس کی تفتیش میں بہت معاون ثابت ہو رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار 3 ملزمان شارع قائدین پر پہلے سے سب انسپکٹر سید غوث عالم کے انتظار میں تھے۔
ملزمان کی سڑک کنارے موجودگی سے لگتا ہے کہ انہوں نے پولیس افسر کی روزانہ اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے کی معمول کی آمدورفت کی مکمل ریکی کر رکھی تھی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ موٹرسائیکل چلانے والے دونوں ملزمان نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے جبکہ ایک موٹرسائیکل کی عقبی نشت پر بیٹھے دہشتگرد نے کیپ لگا رکھی تھی۔موٹر سائیکل پر سوار تنہا شخص کے پاس پستول تھی جونہی سب انسپکٹر غوث عالم کی گاڑی ان کے قریب آئی تو تنہا شخص نے پستول نکال کر دوسری موٹر سائیکل میں پیچھے بیٹھے کیپ پہنے ملزم کو دی۔
یہی شخص اس ٹارگٹڈ واردات کا شوٹر تھا جس نے غلام غوث کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ کی طرف جا کر فائرنگ کی۔ایک گولی چلی جو گیٹ کے شیشے میں سوراخ کرتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر موجود غوث عالم کے چہرے پر لگی تاہم خول پستول میں پھنس گیا ملزم نے دوسری گولی چلانے کی کوشش کی مگر پستول لوڈ نہیں ہو سکا۔اس دوران پولیس افسر گاڑی کی آگے جاکر رکشہ سے ٹکرا گئی اور بھگدڑ مچنے کی وجہ سے ملزمان فرار ہوگئے۔پولیس کے مطابق پہلی گولی کا خول پستول میں پھنس جانے کی وجہ سے جائے وقوعہ سے کوئی خول نہیں مل سکا۔ پولیس دیگر کیمروں کی مدد سے بھی ملزمان کو شناخت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 11 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp