بھارت نے کشمیری سیاستدانوں کو آزاد کر دیا

عالمی دباؤ کے نتیجے میں بھارت کی کشمیر سے گرفت ڈھیلی پڑنے لگی

لاہور ۔ :   دو مہینے سے اوپر کا وقت گزر گیا مگر ابھی تک بھارت نے کشمیر سے کرفیو نہیں ہٹایا تاہم اب اس کی غنڈہ گردی ا ور ہٹ دھر می کسی حد تک کم ہوئی ہے کہ وہ کشمیر سے آہستہ آہستہ پابندیاں کم کرتا جا رہا ہے۔کچھ دن قبل سڑکیں کھولنے اور اب سیاستدانوں کو آزاد کرنے سے لگتا ہے کہ بھارت پر عالمی پریشر کام کرگیا ہے۔بھارتی خبر رساں ادارے 'پریس ٹرسٹ آف انڈیا' کے مطابق حکام نے سیاستدان یاور میر، نور محمد اور شعیب لون کو رہا کردیا ہے۔
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد متعدد کشمیری سیاست دانوں کو ان کے گھر میں نظر بند یا حراست میں لے لیا تھا۔راستے بند کرنے اور کرفیو نافذ کرنے کے بعد وہاں سے سیاحوں کو بھی نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔کشمیر پہاڑی سلسلے، اسکی ریزورٹ، دریا اور سیب کے باغات سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں تاہم بھارت کے مقبوضہ وادی کی نیم خود مختاری کو ختم کرنے کے اقدامات کی بڑے پیمانے پر مخالفت سامنے آئی اور کشمیریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
ہاؤس بوٹ مالکان کی ایسوسی ایشن کے رہنما ولی محمد کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے سیاحوں کو وادی خالی کرنے کا کہا اور اب انہیں بغیر کسی سہولت کے واپس آنے کی اجازت دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 'یہاں نہ انٹرنیٹ ہے، نہ فون کام کرتا ہے اور کوئی ٹرانسپورٹ بھی دستیاب نہیں، سیاح یہاں آکر کیا کریں گے'۔مشرقی بھارت کی ریاست بہار سے آئی سیاح انیتا رائے کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے پریشانیوں کا سامنا ہے،میرے والدین پریشان ہوں گے۔
ایک اور سیاح اتول کمار کا کہنا تھا کہ زیادہ تر دکانیں بند پڑی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'بہتر ہوتا کہ دکانیں کھلی ہوتیں، ہمیں یہاں اکیلا پن محسوس ہورہا ہے'۔بھارت نے سیاستدانوں کو چھوڑنے سے قبل سڑکیں کھولنے کا بھی اعلان کیا تھا جس کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اب سیاح مقبوضۃ کشمیر میں آ سکتے ہیں۔بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ بھارت عالمی دباؤ کے نتیجے میں آہستہ آہستہ کشمیر سے پابندیاں اٹھا رہا ہے مگر کرفیو ابھی بھی نافذ ہے جس کے ساتھ کشمیر میں میں بہت ساری پابندیاں جوں کی توں ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 11 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp