ملالہ یوسفزئی کا مستقبل سے متعلق سوال سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن گیا

تعلیم ختم اب عملی زندگی کہاں سے اور کیسے شروع کروں؟

لاہور ۔ :   مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں،والا معاملہ لگتا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کی تعلیم تو مکمل ہو چکی ہے لہٰذا انہوں نے اپنے فالوورز سے یہ پوچھنا ضروی سمجھا کہ اب میں کیا کروں۔سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر ملالہ کا ٹویٹ کرنا تھا کہ لوگوں نے دھڑاھڑ جواب دیے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ملالہ ان مشوروں میں سے کس پر عمل کرتی ہے۔ملالہ یوسفزئی دنیا کی سب سے کم عمرنوبل انعام یافتہ ہیں،ان کی ذہانت اوراعتماد اپنی جگہ لیکن پڑھائی اچھے اچھوں کے چھکے چھڑا دیتی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ملالہ نے سینئرائر سے نمٹنے کیلئے مدد طلب کرلی۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرملالہ نے اپنے 15 لاکھ فالوررز کیلئے ٹویٹ میں یونیورسٹی کے آخری سال کیلئے چھٹیوں کے بعد واپسی کا بتاتے ہوئے لکھا کہ میں جانتی ہوں یہ مشکل ترین ہوگا۔ملالہ نے آسکنگ فارآفرینڈ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ یونیورسٹی کے آخری سال کے مسائل سے نمٹنے کیلئے تجاویز بھی مانگ لیں۔
جواب میں 20 ہزارلائکس کے ساتھ ساتھ ملالہ کو 2 ہزار سے زائد مشورے بھی موصول ہوئے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے، جوابات دینے والے بھی کم وبیش انہی مسائل کا شکارنکلے۔ملالہ یوسفزئی اگر سیاست میں آئیں تو۔۔۔کسی نے مشورہ دیا کہ عملی کام کا آغازپہلے کرلیں جس کے جواب میں ملالہ نے بھی اسی خواہش کا اظہارکیا۔ایک صارف نے تو آسان حل بتاتے ہوئے کتابوں سے دوررہ کر دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کا مشورہ دیا جو بقول ملالہ کے وہ پہلے ہی کر رہی ہیں۔
ملالہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلسفہ، سیاست، اور معاشیات کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ یہی مضامین آکسفورڈ سے پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اورچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بھی پڑھے تھے۔یاد رہے کہ ملالہ یوسفزئی کو اس وقت عالمی پہچان ملی جب 2012 میں سوات میں اسکول سے واپس آتے ہوئے ملالہ پر فائرنگ کی گئی تھی۔ ملالہ کو لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد میں ملالہ کو بہترعلاج معالجے کیلئے برطانیہ منتقل کردیا گیا تھا۔یقیناً ملالہ یوسفزئی اپنے فالورز کی طرف سے دیے گئے مشوروں میں سے ہی کسی پر عمل پیرا ہو کر عملی زندگی کا آغاز کریں گی۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 11 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp