چار بار وزیرِاعظم بننے کی پیشکش ہوئی لیکن ٹھکرا دی: شہباز شریف کا انکشاف

اگر مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اور دھرنا مِس فائر ہوا تو حکومت کو نئی زندگی مل جائے گی، ن لیگ کے سینیئر رہنماؤں کے اہم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

لاہور : گزشتہ روز لاہور میں ہونے والے ن لیگ کے سینیئر رہنماؤں کے اہم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں چار بار وزیرِاعظم بننے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔ شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اور دھرنا مِس فائر ہوا تو حکومت کو نئی زندگی مل جائے گی۔ گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور دھرنے میں شرکت کے حامی نہیں تھے اور انہوں نے اپنے مؤقف کے حق میں ماضی کی مثالیں بھی دیں۔
شہباز شریف کے مطابق اگر مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اور دھرنا مِس فائر ہوا تو حکومت کو نئی زندگی مل جائے گی۔ شہباز شریف نے ٹکراؤ کی پالیسی سے اب تک ہونے والے نقصانات سے بھی رہنماؤں کو آگاہ کیا اور ذوالفقارعلی بھٹو اور بے نظیر بھٹوکی ٹکراؤ کی پالیسی کا انجام بھی بتایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پارٹی رہنماؤں کی اکثریت نے آزادی مارچ اور دھرنے میں شمولیت کی حمایت کی جب کہ اجلاس کی روداد تحریری شکل میں پارٹی کے قائد نواز شریف کوبھی بھیجی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی رہنماؤں کی اکثریت آزادی مارچ اور دھرنے میں شرکت کی حامی ہے۔ اجلاس میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انہیں چار بار وزیر اعظم کی پیشکش ہوئی جسے انہوں نے ٹھکرادیا، نواز شریف سے بغاوت کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ شہباز شریف نے اپنے خدشات اور تحفظات کے باوجود نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور نواز شریف کو دیے گئے اپنے مشوروں پر بھی پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف مجھے جو حکم دیں گے وہی میرا فیصلہ ہوگا، میری رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن فیصلے کا اختیار نواز شریف کا ہی ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp