رافیل طیارے کے مقابلے میں پاکستان کے پاس ایک ایسا طیارہ موجود جو رافیل سے کہیں زیادہ بہتر ہے

پاک فضائیہ کے پاس موجود امریکی ساختہ ایف 16 طیارہ فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے سے بہتر تصور کیا جاتا ہے، ایف 16 طیارہ 29 ممالک کے زیر استعمال، جبکہ رافیل طیارہ تاحال اپنی مارکیٹ بنانے میں کامیاب نہیں ہوا

لاہور : رافیل طیارے کے مقابلے میں پاکستان کے پاس ایک ایسا طیارہ موجود جو رافیل سے کہیں زیادہ بہتر ہے، پاک فضائیہ کے پاس موجود امریکی ساختہ ایف 16 طیارہ فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے سے بہتر تصور کیا جاتا ہے، ایف 16 طیارہ 29 ممالک کے زیر استعمال، جبکہ رافیل طیارہ تاحال اپنی مارکیٹ بنانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے 2 روز قبل فرانسیسی ساختہ رافیل جنگی طیارہ حاصل کر لیا گیا ہے۔
بھارت کو فرانسیسی جنگی طیارہ موصول ہونے کے بعد بحث چل نکلی ہے کہ آیا بھارت کے پاس موجود فرانسیسی ساختہ رافیل جنگی طیارہ زیادہ بہترین ہے یا پاکستان کے پاس موجود امریکی ساختہ ایف 16 جنگی طیارہ زیادہ بہتر ہے۔ اس حوالے سے ایک برطانوی خبر رساں ادارے نے تحقیقاتی و معلوماتی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ایف-16 طیارے گذشتہ چار دہائیوں سے پاک فضائیہ کا حصہ ہیں۔
تحقیق کے مطابق ایف-16 کی رفتار فرانسیسی ساختی رافیل طیارے سے زیادہ ہے۔ بھارتی رافیل طیارے کی رفتار 2250 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ پاکستانی ایف-16 طیارے کی رفتار 24 سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ رافیل طیارے کی لاگت اور آپریشنل لاگت ایف-16 طیارے سے زیادہ ہے۔ ایف-16 کو کم خرچ اور دنیا کا بہترین جنگی طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک ایف-16 طیارے کی موجودہ لاگت 21 کروڑ ڈالر فی جہاز ہے۔
اس کے مقابلے میں بھارت کے فرانس سے کیے گئے معاہدے کے مطابق رافیل طیارے کی فی لاگت 21 کروڑ ڈالر ہے۔ رافیل طیارے میں ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت ایف-16 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ رافیل طیارہ 9.5 ٹن وزن کے ہتھیار کے ساتھ اڑان بھر سکتا ہے جبکہ ایف-16 طیارہ پانچ ٹن ہتھیار کے ساتھ پرواز کر سکتا ہے۔ تاہم ایف 16 طیارہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ایف سولہ کے مقابلے میں رافیل طیارے کی میزائل داغنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہے۔ رافیل طیارہ 150 کلومیٹر دور سے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے جبکہ ایف-16 طیارہ 100 کلومیٹر سے اپنے ہدف پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اگرچہ رافیل طیارے میں ریڈار سے بچنے کے لیے سٹیلتھ ٹیکنالوجی موجود ہے مگر وہ اتنی موئثر نہیں کہ ریڈار سے بچ سکے۔ دوسری جانب ایف-16 طیارہ میں سٹیلتھ ٹیکنالوجی موجود ہی نہیں لیکن یہ اپنی رفتار کے باعث ریڈارز اور حیرف جنگی طیاروں کو چکما دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان سب صلاحیتیوں کے علاوہ ایف-16 طیارہ دنیا کا سب سے مشہور لڑاکا طیارہ ہے۔اس وقت دنیا کے 29 ممالک کے پاس ایف 16 جنگی طیارے موجود ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس فرانسیسی رافیل طیارے تاحال اپنی مارکیٹ بنانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ یوں مجموعی طور پر ایوی ایشن ماہرین امریکی ساختہ ایف 16 طیارے کو فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے سے زیادہ بہتر قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اب پاکستان چوتھی جنریشن کی خصوصیات کا حامل جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارہ بھی تیار کر رہا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp