میرے خلاف مقدمہ کب کریں گے؟ برطانوی صحافی کے بعد شہزاد اکبر کا بھی شہباز شریف سے سوال

شہباز شریف کی ہمت نہیں کہ میرے خلاف مقدمہ کریں، میرے خلاف ہتک عزت کی کارروائی نہیں کی گئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میرے الزامات درست ہیں: معاون خصوصی برائے احتساب

اسلام آباد : برطانوی صحافی ڈیوڈ روز کے بعد وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتسابشہزاد اکبر نے بھی صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف سے سوال کیا ہے کہ شہباز شریف انکے خلاف مقدمہ کب کریں گے؟ شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف کی ہمت نہیں کہ وہ انکے خلاف مقدمہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک انکے خلاف ہتک عزت کی کارروائی نہیں کی گئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انکے شہباز شریف پر لگائے گئے الزامات درست ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی ماہ ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک ان کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی نہیں کی گئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے الزامات درست ہیں۔ خیال رہے کہ مبگل کے روز برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ شہباز شریف نے مجھ پر یا میرے اخبار پر کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ برطانوی صحافی ڈیوڈ روز کا کہنا تھا کہ مجھ سے کئی پاکستانی پوچھتے ہیں کہ کیا شہبازشریف نے مقدمہ کیا ہے ؟ تو میں بتا دوں کہ شہباز شریف نے مجھ پر یا میرے اخبار پر کوئی مقدمہ نہیں کیا۔
انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں ایک خبر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب اورایسیٹ ریکوری یونٹ شہباز شریف سے تحقیقات کررہے ہیں۔ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ شہبازشریف کیوں مقدمہ نہیں کررہے، دراصل شہباز شریف کیسز میں مصروف ہیں۔یاد رہے کہ برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے زلزلہ فنڈز میں کرپشن کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف نے انہیں عدالت لے جانے کا اعلان کیا تھا۔
شہباز شریف نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ میرے لیگل نوٹس کے جواب میں‌ ادارے نے 22 اگست تک جواب دینے کا اعلان کیا، ان کے صحافی ڈیوڈ روز نے بھی 17 اگست کو جلد جواب دینے کا عندیہ دیا تھا، لیکن میرے وکیل کو تاحال کوئی جواب نہیں‌ ملا۔ لیکن شہباز شریف کے اس دعوے کو برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے مسترد کر دیا تھا۔ ڈیوڈ روز نے شہباز شریف کو اس دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیلی میل نے کئی روز پہلے آپ کے وکلا کو خط بھیج دیا تھا، لگتا ہے کہ آپ کے وکلا آپ کو بتانا بھول گئے ہیں۔ برطانوی صحافی نے مزید کہا تھا کہ جعلی خبرنہیں دی، میں اپنی خبر پر قائم ہوں اور جعلی خبر دینے کے شہباز شریف کے الزام کو مسترد کرتا ہوں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp