مولانا فضل الرحمان خیبرپختونخواہ سے نہیں نکل سکتے، محمود خان

کسی اور صوبے سے اسلام آباد چلے جائیں تو کچھ نہیں کرسکتا، جب یہ لوگ مارچ کیلئے نکلیں گے تو پھر اپنا منصوبہ دوں گا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان کی گفتگو

لاہور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان خیبرپختونخواہ سے نہیں نکل سکتے، کسی اور صوبے سے اسلام آباد چلے جائیں تو کچھ نہیں کرسکتا،جب یہ لوگ مارچ کیلئے نکلیں گے تو پھر اپنا منصوبہ دوں گا۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب مولانا کے لوگ باہر نکلیں گے تو پھر پتا چلے گا کہ کتنے لوگ ان کے ساتھ ہیں۔
15لاکھ لوگ مارچ میں نہیں جائیں گے۔میرا نہیں خیال کے مولانا کے ساتھ اتنے لوگ آئیں گے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خیبرپختونخواہ سے نہیں نکل سکتے، کسی اور صوبے سے اسلام آباد چلے جائیں تو کچھ نہیں کرسکتا۔خیبرپختونخواہ سے مولانا کے ساتھ زیادہ لوگ نہیں ہوں گے۔مدارس کے بچوں کو سیاست سے دور رکھنا ہوگا۔
جب یہ لوگ مارچ کیلئے نکلیں گے تو پھر اپنا منصوبہ دوں گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ ہماری اولین ترجیح معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہو نگے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار ، عمر ایوب، حماد اظہر، محمد میاں سومرو، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، مشیر اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، یوسف بیگ مرزا، شوکت ترین، چیرمین ایف بی آر شبر زیدی، چیرمین سرمایہ کاری بورڈ، چیرمین این ڈی ایم اے اور سینئر افسران بھی موجود تھے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح معاشی نظام کو مستحکم بنیادوں پر چلانا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہو نگے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایس ایم ایز) کے فروغ، بیمار صنعتوں کی بحالی اور تعمیرات سیکٹر کو مرعات دینے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی ۔
بیمار صنعتوں کی بحالی کے حوالے سے وزیر اعظم کوآگاہ کیا گیاکہ کل 687 ایسے یونٹس ہیں جن کو فوری طور پر بحال کرنے کیلئے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پبلک پرا ئیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ان کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ 60 دن کے اندر ایک مفصل منصوبہ بندی کے تحت ان یونٹس کو بحال کرنے کے لیے جن قوانین اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے، ان کو مکمل کیا جائے۔
چھوٹے اور درمیانی صنعتوں کے فروغ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ ایس ایم ایز میں اس وقت سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی کمی، ہنر مند افراد کی کمی ، قوانین میں تبدیلی ، سمیڈا میں اصلاحات، ریسرچ کا فقدان جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ایس ایم ایز کے فروغ کے لئے شامل کیا جائے۔
کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ سرمایہ کار کسی دقت یا ہچکچاہٹ کے بغیر سرمایہ کاری کر سکیں۔ مقامی سطح پر چھوٹے صنعتی یونٹس کو ترجیح دی جائے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ایک ہفتے میں ایس ایم ایز کے فروغ کے لئے مکمل ایکشن پلان پیش کیا جائے جس میں مختلف ٹارگٹ مکمل کرنے کے لیے مخصوص میعاد کا تعین شامل ہو۔
تعمیرات سیکٹر کے لیے مراعات فراہم کرنے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس شعبے سے متعلقہ صنعتوں کو جلد ٹیکس مراعات دے دی جائیں گی۔ سٹیل اور سیمنٹ صنعتوں کے سیلز ٹیکس کے حوالے سے وزیر اعظم نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ ایف بی آر، نیا پاکستان ہاوسنگ اتھارٹی اور صوبائی حکومتوں سے مل کر لائحہ عمل ترتیب دیں اور اگلے ہفتے تک رپورٹ پیش کریں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کے معاشی ٹیم کے ساتھ تواتر کے ساتھ اجلاس منعقد کیے جائیں گے جس کا سب سے اہم مقصد بین الوزارتی ہم آہنگی بڑھانا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp