ٹام ہیرسن اور ویرن ڈیوٹرم پی سی بی پوڈ کاسٹ کے مہمان

ٹی ٹونٹی سیریز میں کارکردگی پر سرفراز احمد کاردعمل، مصباح الحق کی قومی ٹی ٹونٹی کپ سے قبل گفتگو

لاہور : انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیرسن اور کرکٹ آئرلینڈ کے چیف ایگزیکٹوویرن ڈیوٹرم نے اپنے دورہ اسلام آباد اور لاہور کو کامیاب قرار دیتے ہوئے مقامی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا  ہے۔
16 منٹ پر مشتمل پی سی بی پوڈ کاسٹ کی چھٹی قسط میں اظہار خیال کرتے ہوئے ٹام ہیرسن نے کہا کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے 2022 میں دورہ پاکستان سے  قبل حالیہ دورہ لاہور اور اسلام آباد  کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کابغور جائزہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب ویرن ڈیوٹرم نے آئرلینڈ کرکٹ کے جلد دورہ پاکستان کا عندیہ دیا ہے۔
پی سی بی پوڈ کاسٹ کے چھٹے ایڈیشن میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان  سرفراز احمد نے  سری لنکا کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے 13 اکتوبر سے فیصل آباد میں شروع ہونے والے قومی ٹی ٹونٹی کپ کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

علاوہ ازیں پی سی بی پوڈ کاسٹ کے حالیہ ایڈیشن میں قائداعظم ٹرافی اور قومی انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ کی تازہ ترین تفصیلات بھی شامل ہیں۔سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم اور کمنٹیٹر رمیز راجہ کا کمنٹری کے دوران یادگار واقعہ بھی رواں ہفتے جاری ہونے والی پی سی بی پوڈکاسٹ کا حصہ ہے۔
ٹام ہیرسن :
پی سی بی پوڈکاسٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے چیف ایگزیکٹو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ٹام ہیرسن نے  واضح کیا کہ ان کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے  کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی دعوت پر یہاں بین الاقومی سیریز کے دوران سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے آئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے پاکستان میں سیکورٹی معاملات کی نگرانی کرنے والے افراد سے براہ راست ملاقاتیں کرنے  کے ساتھ ساتھ مستقبل میں  انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان پرتبادلہ خیال کیا۔
چیف ایگزیکٹو ای سی بی نے کہا کہ ان کی پاکستان آمد بہت مفید رہی ہے اور وہ تمام اہداف حاصل کرکےوطن واپس لوٹ رہے  ہیں۔
ٹام ہیرسن نے  واضح کیا کہ فی الحال انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان میں کافی وقت موجود ہے تاہم وہ اس دوران برٹش ہائی کمیشن، وزرات داخلہ اور دیگر پولیس افسران سے رابطے میں رہیں گے۔
انہوں نے لاہور سیف سٹی پراجیکٹ کے منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ  یہ پراجیکٹ سیکورٹی صورتحال کی نگرانی کے  لیے انتہائی مؤثر اور مفید ہے۔مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلقگفتگو کرتے ہوئے ٹام ہیرسن نے  کہا کہ وہ حالیہ دورے کے دوران حاصل ہونے والی تمام  معلومات وطن واپس لے کر جارہے ہیں تاکہ انہیں2022 میں شیڈول انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان سے متعلق فیصلے کرنے میں آسانی ہوسکے۔

ٹام ہیرسن نے  کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر ملک زیادہ سے زیادہ کرکٹ اپنے ہی میدانوں میں کھیلے مگربدقستمی سے ایسا ہو نہیں سکتا۔انہوں نے کہا  کہکرکٹ ایک بہترین کھیل اور اس کے فروغ کے لیےہر ملک کو آگے بڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ہمیں ایک ایسی بنیاد بنانے کی ضرورت ہے جس کے مطابق ہر ٹیم اپنے ملک میں زیادہ سے زیادہ کرکٹ کھیل سکے۔

ورلڈٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل میچز میں شرکت کے لیے انگلینڈ کا دور ہ کرنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کی میزبانی پر گفتگو کرتے ہوئے ٹام ہیرسن نے  کہا کہ ای سی بی کو پاکستان کی میزبانی کرنا اچھا لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ آمد کے  دوران وہاں موجود کرکٹ کمیونٹی محظوظ ہوتی ہے۔ آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 سے قبل پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان محدود فارمیٹ کی سیریز اس کی تازہ ترین مثال ہے۔

ویرن ڈیوٹرم:
کرکٹ آئرلینڈ کے چیف ایگزیکٹو ویرن ڈیوٹرم نے پاکستان آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ان کی مہمان  نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آئرلینڈ کا شمار ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کی فہرست میں ہوتا ہے اور وہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
کرکٹ آئرلینڈ کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ پاکستان آمد سے قبل وہ جو سوالات اور خیالات ساتھ لائے تھے اس دورے میں ان سب کے جوابات مل گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور لاہورمیں کرکٹ، سیکورٹی اور حکومتی عہدیداران سے ملاقاتیں انتہائی مفید رہیں، پاکستان میں کرکٹ کی مکمل بحالی کے لیے تمام ادارے مل کر کام  کررہے ہیں۔
ویرن ڈیوٹر م نے  کہا کہ تمام سوالات کے جوابات ملنے کے بعد دورہ پاکستان سے انکار کرنا ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے  کہا کہ رواں ماہ کے اختتام پر کرکٹ آئرلینڈ کی بورڈ میٹنگ ہے جہاں وہ بورڈ اراکین سےدورہ پاکستان کی تمام تر معلومات کا تبادلہ کریں گے۔
کرکٹ آئرلینڈ کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ وہ اپنے کھلاڑیوں، حکومت اور انشورنس دینے والوں سے گفتگو کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اب دورہ پاکستان کی دعوت ان کے لیے کوئی سرپرائس نہیں ہوگا بلکہ وہ اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp