سپریم کورٹ نے آر اے بازار خود کُش دھماکے میں سزائے موت پانے والے ملزم کو بری کر دیا

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ قانون کے مطابق شہادت نہ ہو تو ہم کیا کریں

اسلام آباد : سُپریم کورٹ نے آر اے بازار خود کُش دھماکے میں ملوث ہونے کی بناء پر سزائے موت پانے والے ملزم کو بری کرنے کا حُکم دے دیا۔ ملزم عمر عدیل کو اس سے قبل عدالت کی جانب سے 20 بار سزائے موت سُنائی گئی تھی۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے آر اے بازار میں خود کُش دھماکا کرنے والے ملزم کی معاونت کی تھی۔ 2007ء میں ہونے والے پنڈی میں ہونے والے اس خود کُش دھماکے کے نتیجے میں 20 افراد شہید اور 36 زخمی ہوئے تھے۔
چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے تھے کہ قانون کے مطابق شہادت نہ ہو تو ہم کیا کریں، ملوث ہونے میں ثابت کرنے کے لیے کچھ تو شہادت ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 12 ستمبر کو بھی سپریم کورٹ نے دہرے قتل کے ملزم شہزاد عرف سجاد کو بری کرنے کا حکم دیا تھا،عدالت عظمیٰ نے فریقین کے درمیان صلح کی بنیاد پر عدالت نے ملزم کو بری کیا،ٹرائل کورٹ نے ملزم شہزاد عرف سجاد کو سزائے موت سنائی تھی،ہائی کورٹ نے ملزم شہزاد کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ویڈیو لنک کے ذریعے وکلاء نے لاہور رجسٹری سے دلائل دئیے۔سر کاری وکیل نے کہاکہ شہزاد عرف سجاد پر رمشہ بی بی اور کاشفہ بی بی کے قتل کا الزام ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس کیس میں جو زخمی ہوئے اور جو قتل ہوئے ان کے ورثا نے ملزم سے صلح کر لی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جو اس واقعہ میں زخمی بھی نہیں ہوئے وہ صلح سے انکار کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہاکہ ورثاء کا دائرہ کار بڑھ جائے تو صلح کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ورثا اللہ واسطے تو کسی کو معاف نہیں کرتے،اس کیس میں تو قتل کی وجہ ہی ثابت نہیں ہو سکی۔ سرکاری وکیل نے کہاکہ کتوں کی لڑائی ہوئی تھی جس پر یہ واقعہ پیش آیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ بڑی عجیب بات ہے کتوں کی لڑائی ہوئی اور انسان قتل ہو گئے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp