تعلیمی اداروں کے ڈیلی ویجزملازمین کی مستقلی معاملہ ،

عدالتی فیصلہ پر من و عن عملدرآمد ہونا چاہیے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کے ڈیلی ویجزملازمین کی مستقلی کے فیصلے پر عملدرآمد کے خلاف توہین عدالت کیس حکم دیا ہے کہ عدالتی فیصلہ پر من و عن عملدرآمد ہونا چاہیے۔جمعرات کو سیکرٹری ایجوکیشن اور ڈی جی فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے سوال کیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق کیا رپورٹ ہی ڈی جی ایجو کیشن نے کہاکہ 8 اکتوبر کو ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق 11 بی کے تحت ریفرنس ایف پی ایس سی بھجوا دیا ہے۔
وکیل نے کہاکہ ڈیلی ویجز اساتذہ کو پوسٹنگ دینے کی بجائے سیٹیں ایف پی ایس سی بھجوا دی گئیں۔ جسٹس عامر فاروق نے ڈی جی سے استفسار کیا کہ کیا یہی پوسٹیں وہی ہیں جن پر ان ملازمین کو مستقل کیا جا سکتا تھا ڈی جی نے کہاکہ جی بالکل یہ وہی پوسٹیں ہیں، تاہم عدالت نے کوڈل فارمیلیٹیز کا حکم دیا تو ریفرنس ایف پی ایس سی بھجوایا ہے۔ ڈی جی نے کہاکہ ایف پی ایس سی ان 256 ملازمین کی اہلیت کا جائزہ لے گی جس پر پوسٹنگ آرڈر جاری کریں گے۔
ڈی جی ایجو کیشن نے کہاکہ ڈیلی ویجز ملازمین کے لیے پوسٹیں حاصل کرنے کے لیے وزارت خزانہ سے بھی معاملہ اٹھا رکھا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ ایف پی ایس سی ضروری نہیں ٹیسٹ لے، ایف پی ایس سی نے اہلیت چیک کرنا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ کیا جو آسامیاں مشتہر کی گئی ہیں ڈیلی ویجز ملازمین کو مقابلہ کرنا پڑیگا۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہاکہ جی نہیں، ڈیلی ویجز ملازمین کے لیے الگ سے پوسٹیں مختص ہوں گی۔
جسٹس محسن کیانی نے کہاکہ ان ملازمین کو گریڈ 17 میں کتنی تنخواہ دی جا رہی ہے، لوگوں کے حقوق ہیں،گزشتہ حکومتوں نے ڈیلی ویجز ملازمین کے ساتھ فراڈ کیا، ان کا حق قائم نہیں کیا۔ عدالت نے حکم دیاکہ عدالتی فیصلہ پر من و عن عملدرآمد ہونا چاہیے۔ بعدازاں عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp