معاشرے کی اصلاح اور معاشرتی برائیوں کے تدارک میں منبر اور محراب کا کردار کلیدی ہے، نورالحق قادری

علماء وتدریسی ادارے منشیات کی روک تھام بارے آگاہی کیلئے سوشل میڈیا سے استفادہ کریں ، منبر اور محراب کے بامعنی کردار سے ہی معاشرہ بدلے گا، تربیتی نظام میں جامعیت کو رائج کیا جائے،اسلامی یونیورسٹی میں ذہنی امراض کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب میں خطاب

اسلام آباد : وفاقی وزیر مذہبی امور و بین العقائد ہم آہنگی نور الحق قادری نے علماء اور تدریسی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ منشیات کی روک تھام کے لیے اپنا کردار سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعے ادا کریں ، انہوں نے کہا کہ معاشرے کی اصلاح اور معاشرتی برائیوں کے تدارک میں منبر اور محراب کا کردار کلیدی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی یونیورسٹی میں کا منشیات کی روک تھام اور ذہنی امراض کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ منبر اور محراب کے بامعنی کردار سے ہی معاشرہ بدلے گا، تربیتی نظام میں جامعیت کو رائج کیا جائے۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ برائیوں سے چھٹکارا احسن اسلوب سے ممکن ہے، منشیات کی ہولناکیوں سے بچاو میں سب سے اہم کردار علما واساتذہ کا ہے، اساتذہ ، علما و طلبا مل کر منشیات کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس غلام قادر نے کہا کہ سرحد پار سے منشیات کی ملک میں آمد کو روکنا بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا ، اے این ایف 29 تھانے اور 5 علاقائی ڈائریکٹورئٹس کے ذریعے سرگرم عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2001 ء سے پاکستان پوست سے پاک ملک ہے۔ ڈپٹی ڈی جی اے این ایف نے کہا کہ منشیات کے شکار لوگوں کو مجرم نہیں مریض سمجھ کر مدد کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اے این ایف زندگی کے نام سے جلدایپ کا اجرا کرے گا ، نشہ ایک لعنت ہے، سخت سزائیں ضروری ہیں۔
نشے کی لعنت سے چھٹکارا آگاہی اور مل جل کر کام کرنے سے ممکن ہے۔صدر جامعہ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے اس موقعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی منشیات کے خاتمے میں کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کا کردار منشیات جیسی لعنت سے چھٹکارے میں کلیدی ہے، اسلام نے ذہنی اور جسمانی اہمیت پر خصوصی توجہ دی ہے۔ صدر جامعہ نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیش آنے والے ذہنی مسائل کا بھی ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے قرآنی تعلیمات سے راہنمائی لی جائے۔
تقریب سے جامعہ کے نائب صدر اور کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر محمد طاہر خلیلی نے ذہنی امراض کے عالمی دن اور منشیات کے انسانی صحت پر اثرات کے حوالے سے خطبہ دیا۔ اس موقع پر دعوہ اکیڈمی کے ڈی جی ڈاکٹر سہیل حسن سمیت جامعہ کے مشیر طلبہ ڈاکٹر طارق جاوید اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ پروگرام میں اسلامی یونیورسٹی کی دعوہ اکیڈمی کے زیر اہتمام افواج پاکستان کے آئمہ کے لیے اسلامی تربیتی کورس مکمل کرنے والے شرکائ بھی موجودتھے۔قبل ازیں منشیات کی روک تھام اور اس ضمن میں آگاہی کے حوالے سے ایک خصوصی واک کا اہتمام کیا گیا جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور ، ڈپٹی ڈی جی اے این ایف اور صدر جامعہ سمیت دیگر عہدیداروں اور طلبہ نے شرکت کی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp