شہباز شریف کی کمر میں تکلیف کے باعث نواز شریف سے ملاقات موخر

شہباز شریف نے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات میں آزادی مارچ کے حوالے سے لیگی رہنماؤں کی سفارشات پیش کرنا تھیں

لاہور : : مسلم لیگ ن کا آزادی مارچ سے متعلق فیصلہ ایک بار پھر التوا کا شکار ہو گیا۔شہباز شریف نے کمر میں تکلیف کے باعث آج نواز شریف سے ملاقات موخر کر دی۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کمر میں تکلیف کے باعث نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ہونے والی ملاقات موخر کر دی ہے۔ڈاکٹروں نے شہباز شریف کو کمر درد کے سبب آرام کا مشورہ دیا اہے۔
شہباز شریف نے آج آزادی مارچ کے حوالے سے نواز شریف سے ملاقات کرنا تھیں اور انہیں لیگی رہنماؤں کی کی سفارشات پیش کرنا تھیں۔نواز شریف نے سفارشات کی روشنی میں جے یو آئی ایف کے آزادی مارچ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا۔تاہم اب شہباز شریف کی طبعیت ناسازی ہونے کے سبب معاملہ ایک بار پھر لٹک گیا ہے۔چونکہ شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں شرکت کی مخالفت کی تھی۔
لہذا ان کی نواز شریف سے ملاقات موخر ہونے پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کی مخالفت کی تھی۔شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کرنے کے بجائے ہمیں اپنے احتجاج کا پروگرام بنانا چاہئیے۔ شہباز شریف نے اجلاس کے دوران اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نہایت قابل احترام ہیں تاہم موجودہ دھرنے اور احتجاج کا کریڈٹ مولانا فضل الرحمان کو جائے گا لہٰذا ہمیں اس میں شرکت نہیں کرنی چاہئیے۔
جبکہ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کا حتمی فیصلہ پارٹی سربراہ نواز شریف ہی کریں گے۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو اپنی شرکت یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp