سپریم کورٹ نے آل پاکستان سیمنٹ مینو فکچرنگ ایسوسی ایشن کی نظر ثانی کی درخواست عدالت نے چیف جسٹس کو واپس بھجوا دی

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے آل پاکستان سیمنٹ مینو فکچرنگ ایسوسی ایشن کی نظر ثانی کی درخواست عدالت نے چیف جسٹس کو واپس بھجوا دی۔ جمعرات کو کیس کی سماعت جسٹس منظر ملک کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ جسٹس منظور ملک نے کہاکہ چیف جسٹس کی نگاہ سے شاید اگست 2019 کا فیصلہ نہیں گزرا۔انہوںنے کہاکہ علی ظفر صاحب دونوں پورٹس ایک ہی شہر میں ہیں۔وکیل آل پاکستان سیمنٹ منیفیکچرنگ ایسوسی ایشن بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ جون 2018 میں لیئے گئے ازخود نوٹس سے صنعتوں کو 6.5ارب اضافی ادا کرنا پڑھ رہا ہے۔
علی ظفر نے کہاکہ پی آئی بی ٹی کی مناپلی بنی ہوئی ہے،پی آئی بی ٹی نجی کمپنی ہے جبکہ کے پی ٹی سرکاری ہے،پی آئی بی ٹی صنعتوں سے 1050 ٹن رقم لے رہی ہے جبکہ کے پی ٹی 350 روپے فی ٹن کے حساب سے وصول کر رہی تھی۔ علی ظفر نے کہاکہ ازخود نوٹس سے قبل نوے فیصد کوئلہ کے پی ٹی پر اترتا تھا۔ علی ظفر نے کہاکہ ماحولیاتی آلودگی کے معاملے پر جون 2018 کو ازخود نوٹس لیا گیا تھا۔
علی ظفر نے کہاکہ فریقین کو بغیر نوٹس کیئے اور بغیر سنے اسی دن ساڑھے پانچ بجے فیصلہ بھی دے دیا گیا۔ علی ظفر نے کہاکہ اگر ماحولیاتی آلودگی کا معاملہ ہے تو کوئلے کو اسٹور کرنے کے بجائے براہ راست ترسیل کے احکامات دیئے جا سکتے تھے۔ جسٹس منظو ر ملک نے کہاکہ ہم آپکو سن ہی نہیں رہے،آپ کچھ بھی دلائل دیں فائدہ نہیں۔ جسٹس منظور ملک نے کہاکہ معاملہ آب ہمارے سامنے نہیں بلکہ چیف جسٹس کے سپرد ہو چکا ہے۔ دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے آل پاکستان سیمنٹ مینو فکچرنگ ایسوسی ایشن کی نظر ثانی کی درخواست عدالت نے چیف جسٹس کو واپس بھجوا دی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp