قتل کی وارداتوں کی سنچری کرنیوالے ایم کیو ایم لندن کے ٹارگٹ کلر کے دوران تفتیش اہم انکشافات

سارے قتل بانی ایم کیو ایم کے کہنے پر کئے تھے۔بانی ایم کیو ایم نے پوری قوم کو رسوا کر دیاہے، ملزم عبدالسلام کا دوران تفتیش اعترافی بیان

کراچی : قتل کی وارداتوں کی سنچری کرنے والے ایم کیو ایم لندن کے گرفتار ٹارگٹ کلر عبدالسلام نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیئے ہیں، ملزم نے 100سے زائد افراد کے قتل کا اعتراف کیاہے، میں نے بیشتر قتل کی وارداتیں اورنگی ٹائون میں کیں، پولیس اہلکار اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا۔تفصیلات کے مطابق ای زون پولیس کے ہاتھوں گرفتارایم کیوایم لندن کے ٹارگٹ کلرعبدالسلام نے اعترافی بیان دے دیاہے۔
ملزم نے دوران تفتیش 111 افراد کے قتل کا اعتراف کیاہے، جن میں 2 فوجی، ایک نیوی کا جوان، 8 پولیس اہلکار، پیپلزپارٹی کے 4، ن لیگ کا 1 اور ایم کیو ایم حقیقی کے 14 کارکنان، مخبری کے شبہے میں 57، بھتہ کی رقم نہ دینے پر 7، لسانی بنیادوں پر 11 اور 5 خواتین کا قتل بھی شامل ہیں۔ملزم نے بتایا کہ سارے قتل بانی ایم کیو ایم کے کہنے پر کئے تھے۔بانی ایم کیو ایم نے پوری قوم کو رسوا کر دیاہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم 12 مئی 2007 کا مرکزی ملزم ہے، جس نے اپنے دیگر ساتھیوں ندیم ماربل، خالد صدیق، زبیر برگر، نہال اور دیگر کے ساتھ گرومندر چوک پر نجی ٹی وی کے دفتر پر فائرنگ کی اور بعد ازاں نمائش چورنگی پر بھی فائرنگ کی جس میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔۔پولیس کے مطابق ملزم 1998 سے 2004 تک جیل میں تھا، جس کے بعد پیرول پر رہا ہوا، دوسری بار 2014 میں گرفتار ہوا تاہم ضمانت ملنے کے بعد دوبارہ روپوش ہوگیا تھا، ملزم کو تیسری بار گرفتار کیا گیا ہے، ملزم قتل اور پولیس مقابلوں کے 6 مقدمات میں اشتہاری ہے جبکہ اس کیخلاف ڈسٹرکٹ ایسٹ اور ڈسٹرکٹ ویسٹ میں 111 مقدمات درج ہیں۔
ملزم عبدالسلام نے بتایا کہ میری ٹیم میں ندیم کے علاوہ 11 لڑکے شامل تھے 4 مارے گئے باقی پکٹرے گئے۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ 5لڑکیوں کو زیادتی کے بعد قتل کیا۔ ملزم نے بتایا کہ عباسی شہید اسپتال میں نوکری کرتا ہوں جہاں سے 21ہزار 500 روپے تنخواہ ملتی ہے۔ نوکری سیکٹر انچارج ندیم ماربل نے لگوائی تھی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp