ن لیگ نے عمران خان کے لیے نئی مشکل کھڑی کر دی

ن لیگ کا تحریک انصاف کے خلاف پارٹی فنڈنگ کا نیا کیس دائر کرنے کا فیصلہ،2013ء سے 2018ء تک کے اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لیں

اسلام آباد : : الیکشن کمیشن نے حمکران جماعت کی غیر ملکی فنڈنگ کیس سے متعلق چار درخواستیں مسترد کردیں ہیں جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی کے لیے نئی مشکل کھڑی کر دیا۔تفصیلات کے مطابق ن لیگ نے تحریک انصاف کے خلاف پارٹی فنڈنگ کا نیا کیس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ن لیگ نے 2013ء سے 2018ء تک کے اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لیں۔اکاؤنٹس کی تفسیلات کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی گئی ہے۔
اس حوالے سے محسن شاہنواز رانجھا نے کہا ہے کہ اکبر ایس بابر کے کیس میں فریق نہیں بنیں گے۔تحریک انصاف کے خلاف الگ کیس دائر کریں گے۔تحریک انصاف کے خلاف پہلا کیس 2013ء تک کے اکاؤنٹس کا ہے۔ن لیگ 2013سے 2018ء تک کے اکاؤنٹس کی چھان بین کا مطالبہ کرے گی۔خیال رہے کہ آج اسی متعلق چیف الیکشن کمیشن سردار رضا خان کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دونوں فریقین کو 14 اکتوبر کو اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اسکروٹنی کمیٹی اپنا کام جاری رکھے۔ خیال رہے کہ اکبر ایس بابر کی درخواست پر اسکروٹنی کمیٹی پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کررہی ہے اور حکمران جماعت نے کمیٹی کی کارروائی لیک کرنے سے روکنے کی درخواستیں دی تھیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014ء میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا اور الزام عائد کیا کہ پارٹی نے غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں پیسے اکٹھے کیے گئے۔
بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تاخیر کا شکار ہوگئی کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اکتوبر 2015ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے الیکشن کمیشن پاکستان کو روکا جائے۔ جس کے بعد فروری 2017ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پاکستان تحریک انصاف کے اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔
علاوہ ازیں مارچ 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp