جمیعت علمائے اسلام (ف) کے دھرنے کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کی چھُٹیاں منسوخ کر دی گئیں

پولیس اہلکار صرف انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں ہی چھٹی کر سکیں گے

اسلام آباد : : جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کی چُھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی اسلام آبادمحمد عامر ذوالفقار خان نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ دھرنے کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کی چُھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔
آئی جی آفس کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹی فیکیشن کے مطابق چُھٹیاں منسوخ کرنے کا فیصلہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ۔ نوٹی فیکیشن کے مطابق پولیس اہلکار صرف انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں ہی چھٹی کر سکیں گے۔ دوسری جانب وفاقی پولیس نے ممکنہ احتجاج و دھرنے سے نمٹنے کے لئیے تیاریاں شروع کر دیں اور اسلام آباد پولیس نے دوسرے صوبوں سے بیس ہزار پولیس کی نفری بھی طلب کر لی ۔
ترجمان پولیس کے مطابق رواں ماہ ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لئے اہلکاروں کی ٹریننگ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے، دارالحکومت کا امن و امان خراب کرنے کی اجازت کسی بھی طور پر نہیں دی جائے گی ۔ ترجمان نے بتایا کہ اینٹی رائٹ یونٹ کا پولیس لائن ہیڈ کوارٹرز میں دو شفٹوں میں ٹریننگ سیشن جاری ہیں، اس حوالے سےجوانوں نے مجمع کو کنٹرول کرنے کی مشقیں کیں۔ پولیس افسران نے ہدایت کی کہ جلوس و دھرنے میں اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں جبکہ تھانے میں صرف محرر، سنتری اور ڈپٹی افسر دستیاب ہوں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا تھا تاہم گذشتہ روز یہ تاریخ تبدیل کر کے 31 اکتوبر کر دی گئی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp