لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹرز میں بھارت کی اشتعال انگیزی‘پاک فوج کا جوان شہید

بھارتی قابض فوج رات کی تاریکی میں ماﺅں سے ان کے بچے چھین رہی ہے . ملیحہ لودھی

اسلام آباد/نیویارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 اکتوبر ۔2019ء) لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹرز پر بھارت کی بلااشتعال شدید فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں پاک فوج کا جوان شہید اور 2 خواتین زخمی ہوگئی ہیں. پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فوج نے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بروھ اور چری کوٹ سیکٹرز میں آرمی کی چیک پوسٹوں اور شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ، مارٹر گولے اور راکٹ فائر کیے.
پاک فوج نے بھارتی جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والی بھارتی چیک پوسٹوں کو موثر انداز میں نشانہ بنایا جس سے بھارتی چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا. تاہم فائرنگ کے تبادلے میں سپاہی نعمت ولی شہید جبکہ ایل او سی کے سریاں گاﺅں کی 2خواتین زخمی ہوگئیں‘خیال رہے کہ 7 اکتوبر کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر کی خاتون جاں بحق ہو گئی تھیں.
اس سے قبل 3 اکتوبر کو آزاد کشمیر کے مختلف سیکٹرز پر بھارتی فوج کی شیلنگ کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور 3 شہری زخمی ہوگئے تھے‘گزشتہ ماہ بھارتی فوج کی جانب سے حاجی پیر سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا سپاہی شہید ہوگیا تھا. اس سے قبل اگست میں پاک فوج نے ایل او سی پر بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر موثر جواب دیتے ہوئے ایک افسر سمیت 6 بھارتی فوجیوں کو ہلاک، کئی کو زخمی اور 2 بنکرز کو تباہ کردیا تھا.
اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ پاک فوج نے لائن آف کنٹرول پر تتہ پانی سیکٹر میں بھارت کی جانب کی گئی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا موثر جواب دیا. واضح رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے.
حکام کے مطابق رواں برس ایل او سی پر بھارتی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر میں درجنوں افراد شہید اور 190 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں. دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب، سفارتکار ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت کے قبضے میں کشمیر عوام کی زندگی ایک قبرستان کی خاموشی میں مسلح پنجرے میں رہنے جیسا ہے. رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے اجلاس میں ملیحہ لودھی نے 5 اگست کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر حملے کے بعد کی صورتحال پر بات کی اور بتایا کہ رات میں چھاپوں کے دوران بڑی تعداد میں بچوں کو اٹھالیا گیا، تشدد اور زبردستی گرفتاریوں کی وہ داستانیں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں کہ کس طرح بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گھرسے لے جایا گیا.
انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بچوں کو درپیش اس سنگین حقیقت پر توجہ دیں، جو 2 ماہ سے زائد عرصے سے سخت لاک ڈاﺅن میں موجود ہیں، ساتھ ہی عالمی برادری اور یونیسیف، اقوام متحدہ کی بچوں کی ایجنسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی امداد کے لیے آئیں. واضح رہے کہ تیسری کمیٹی جو سماجی، انسانی اور ثقافتی معاملات دیکھتی ہے اس نے رواں ہفتے خواتین کی ترقی پر ایک مباحثہ کیا اور ملیحہ لودھی نے موقع کی مناسبت کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے سفارتکاروں پر زور دیا کہ وہ غیرملکی قبضوں میں زندگی گزارنے والی خواتین اور بچوں پر بھی قریب سے نظر ڈالے ساتھ ہی انہوں نے نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں دکھایا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بند کیے گئے مواصلاتی نظام کی قیمت بیماروں کو کس طرح ادا کرنا پڑ رہی.
ملیحہ لودھی نے کہا کہ اگرچہ اس کی تفصیل زیادہ تر آبادیوں پر لاگو ہوتی ہے لیکن یہ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں رہنے والی ان خواتین کے لیے درست ہے جہاں مسلسل لاک ڈاﺅن نے ان کے درد و تکلیف کو بڑھا دیا ہے‘انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض فورسز نے رات کی تاریکی میں ماﺅں سے ان کے بچے چھینے گئے پھر انہیں غیرقانونی طور پر رکھا گیا اور کچھ بچے کبھی واپس نہیں آئے. پاکستانی سفیر نے درد کی تصویر کی عکاسی کرنے والی اس کشمیری ماں کا حوالہ بھی دیا جو مقبوضہ کشمیر میں سخت پابندیوں کے باعث اپنے بچے کی زندگی کو نہیں بچاسکی تھی‘نیویارک ٹائمز کے فرنٹ پیج پر شائع اس تصویر کے نیچے لکھا کیپشن یہ کہہ رہا تھا کہ وہ ایمبولنس کو کال نہیں کرسکیں کیونکہ لاک ڈاﺅن تھا.

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp