کہیں وزیرمملکت شہریار آفریدی کے ساتھ دھوکہ تو نہیں ہو گیا ؟

رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور ان کے خلاف منشیات برآمدگی کیس میں سینئیر کالم نگار نے کئی سوالات اُٹھا دئے

اسلام آباد : : وزیر مملکت برائے سیفران و نارکوٹکس شہریار آفریدی سے متعلق سینئیر صحافی و کالم نگار انصار عباسی نے سوالات اُٹھا دئے۔ اپنے حالیہ کالم میں انصار عباسی نے کہاکہ وزیر صاحب نے اپنی پریس کانفرنس کے علاوہ مختلف ٹی وی ٹاک شوز میں قسمیں اُٹھا اُٹھا کر کہا کہ جو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے کیا وہ بالکل درست اور ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر کیا۔
لیکن اب ان ثبوتوں کا سب کو بے چینی سے انتظار ہے۔ کہا گیا تھا کہ ثبوتوں میں گرفتاری کے وقت بنائی گئی وڈیو بھی موجود ہے لیکن عدالت کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی آج تک اُس وڈیو کو تلاش کر رہا ہے مگر وہ ابھی تک سامنے نہیں لائی گئی۔ اگر کوئی وڈیو بنائی گئی تھی تو عدالت میں پیش کیوں نہیں کی جا رہی؟ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ اُن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور ایک ایسا کیس اُن کے خلاف درج کیا گیا جو جھوٹ پر مبنی ہے۔
اب تک کی عدالتی کارروائی کو دیکھیں تو رانا ثناء اللہ کی بات سچ لگ رہی ہے۔ شہریار آفریدی کو میڈیا کی طرف سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ثبوت پیش کریں جن کی موجودگی کا اُنہوں نے قسمیں اُٹھا اُٹھا کردعویٰ کیا تھا۔ انصار عباسی نے کہا کہ آفریدی صاحب مذہبی رجحان رکھتے ہیں جس بنا پر میں اُن سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اس معاملہ پر اسلامی تعلیمات کے مطابق ضرور غور کریں گے کہ کہیں وہ کسی ایسے کام میں شریک تو نہیں جس میں کسی بے قصور کے ساتھ صرف سیاسی اختلاف کی وجہ سے ناانصافی کی جا رہی ہو۔
انہوں نے کہا کہ آفریدی صاحب کو چاہئے کہ وہ ایک بار پھر اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)، جو اُن کا ماتحت ادارہ ہے، سے پورے کیس کے ثبوت طلب کریں اور اس بات کا یقین کر لیں کہ اُن سے غلط بیانی نہیں کی گئی۔ اگر ایسا ہے تو پھر عدالت کے سامنے تمام ثبوت پیش کریں، وہ وڈیو بھی دنیا کے سامنے رکھیں جس میں ایف آئی آر کے مطابق رانا ثناء اللہ سے ہیروئن کی برآمدگی ریکارڈ کی گئی۔ لیکن اگر اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)ثبوت اُن کے سامنے پیش نہیں کرتا تو پھر متعلقہ حکام کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے میڈیا کے ذریعے عوام کو بتائیں کہ اُنہیں جھوٹ بتایا گیا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp