خیبر پختونخوا میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کی ہڑتال کا 16واں روز ‘مریضوں کو شدید مشکلات

عوامی حلقوں نے ہڑتال کو بلیک میلنگ قرار دے دیا‘ ہڑتالیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

پشاور : خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی ہڑتال 16ویں روز بھی جاری رہی ۔ گرینڈ ہیلتھ الائنس کی اپیل پر تمام ہسپتالوں میں او پی ڈیز کا بائیکاٹ جاری ہے جبکہ آپریشن تھیٹرز کو بھی تالے لگے ہیں تاہم ہسپتالوں میں ایمر جنسی کور فراہم کیا جا رہا ہے اور ایمرجنسی میں لائے جانے والے مریضوں کے ناگزیر آپریشنز ہو رہے ہیں ۔
ادھر ڈاکٹرز اور طبی عملے کی ہڑتال کے باعث ہسپتالوں میں داخل مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اوربہت سے مریضوں کے آپریشنز تعطل کا شکار ہو گئے ہیں ۔دریں اثناء علاج معالجے کے لئے ہسپتالوں کی او پی ڈیز کا رُخ کرنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کو بھی مایوس لو ٹنا پڑ رہا ہے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ حال ہی میں صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے ایکٹ کی واپسی اور دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج پر ہے ۔
الائنس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھیں گے ۔ادھر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ ایکٹ عوام اور طبی عملے دونوں کے مفاد میں ہے اور ہڑتال کرنے والے عناصر مخصوص مفادات کیلئے اس اہم قانون سازی میں رکاوٹ بن رہے ہیں ۔ حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گی ۔
دریں اثناء عوامی حلقوں نے گرینڈ ہیلتھ الائنس کی ہڑتال کو فرائض کی ادائیگی سے راہ فرار اختیار کا بہانہ قرار دیا ۔ عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو مناسب تنخواہیں اور مراعات مل رہی ہیں اور ان کا آئے روز مختلف حیلے بہانوں سے ہڑتالیں کرناکسی طور جائز نہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہڑتالیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور اعلیٰ عدلیہ ان عناصر کے خلاف ایکشن لے ۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp