کویت میں مقیم غیر مُلکی حاملہ خواتین کے لیے پریشان کُن خبر

حکومت کی جانب سے زچگی فیس میں 100 فیصد کا اضافہ کر دیا گیا

کویت : کویتی حکومت کی جانب سے ایسا فیصلہ لیا گیا ہے جس نے مملکت میں مقیم غیر مُلکی حاملہ خواتین اور ان کے گھر والوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کویتی حکومت نے تارکین وطن خواتین کے لیے زچگی فیس میں سو فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے قبل نارمل ڈلیوری پر ہسپتال کی جانب سے 50 دینار فیس وصول کی جاتی تھی جسے اب بڑھا کر دُگنا یعنی 100دینار کر دیا گیا ہے۔
مقامی اخبار الرای کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس تارکین کے مفادات کے خلاف اس فیصلے کی منظوری کویتی وزیر صحت ڈاکٹر باسل الصباح نے دی ہے۔ جس پر گزشتہ روز سے عمل درآمد بھی شروع ہو گیا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق نارمل اور سیزیرین پر وصول کی جانے والی فیس میں الٹرا ساؤنڈ، لیبارٹری ٹیسٹ اور ادویات بھی شامل ہیں، تاہم کسی دیگر وجہ سے خاتون کو ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے تو اس سے مشترکہ کمرے کے لیے فی دِن کے حساب سے 10 دینار جبکہ پرائیویٹ کمرے کے لیے 50 دینار وصول کیے جاتے تھے۔
نئے فیصلے کی رُو سے غیر ملکی زچہ کے لیے ایک دِن کے لیے مشترکہ کمرے کی فیس تو پہلے کی طرح 10 دینار ہی ہو گی جبکہ پرائیویٹ کمرے کی فیس 50 دینار سے بڑھا کر 100 دینار مقرر کر دی گئی ہے۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں حکومت کو اچھا خاصا فنڈ مختصر کرنا پڑتا ہے، اسی وجہ سے غیر ملکی خواتین کے لیے زچگی فیس میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں پرائیویٹ کمرے کی مد میں وصول کی جانے والی فیس نجی اسپتالوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس اضافی آمدنی سے صحت سہولیات اور خدمات کا معیار بہتر ہو گا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp