نواز شریف نے جیل سے ایک خط کے ذریعے مولانا کو پیغام بھجوایا

نواز شریف نے مولانا کو دھرنے میں پارٹی کی شرکت کی یقین دہانی کروائی۔ حامد میر

لاہور : : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ نوازشریف نے جیل سے ایک خط کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوا دیا ہے کہ ان کی پارٹی اور کارکن دھرنے میں شریک ہوں گے۔ حامد میر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہبازشریف دھرنے میں شرکت کے حامی نہیں، ن لیگ کے رہنما بند کمرے میں مولانا فضل الرحمان کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ دھرنا نہ کریں لیکن باہر آ کر بیان بدل جاتا ہے۔
دھرنے کے معاملے پر نوازشریف کی پوزیشن بہت واضع ہے لیکن ان کے قریبی ساتھی تذبذب کا شکار ہیں۔ پیپلز پارٹی میں بھی یہی پوزیشن ہے۔ آصف زرداری نے مولانا کی حمایت کی ہے جبکہ ان کے پارٹی رہنما ابھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ حامد میر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے سب کچھ لکھ کر رکھا ہوا ہے کہ پہلے مرحلے میں کیا کرنا ہے اور بعد کی حکمت عملی کیا ہوگی۔
وہ دھرنا لازمی دیں لیکن سیاسی جماعتوں کو پتہ نہیں کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی مذاکرات شروع کرے۔ ان کے ساتھ ایک سیاسی ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے ، ان کو بھی فیس سیونگ کی ضرورت ہے۔انہیں کہا جائے کہ آپ آجائیں ، آپ اسلام آباد میں جلسہ کریں اور اس کے بعد آپ پشاور جائیں وہاں جلسہ کریں لیکن دھرنا نہ دیں ۔
حامد میر نے کہا کہ اگر حکومت نے مس ہینڈلنگ کی اور مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کر لیا یا کریک ڈاؤن شروع کر دیا تو مولانا فضل الرحمان اسلام آباد آئے بغیر ہی اپنی جنگ جیت جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی بھی حکومت کے جس قدر بوکھلائے ہوئے بیانات آ رہے ہیں ، خصوصی طور پر خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں اس سے ان کی پارٹی اور حکومت کمزور جبکہ مولانا فضل الرحمان مضبوط ہو جائیں گے۔ حکومت کو چاہئیے کہ مولانا کو بھی فیس سیونگ دے اور اپنی بھی فیس سیونگ کرے۔ حامد میر نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں:

تاریخ اشاعت : جمعرات 10 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp