سعودی عرب کا انسان دوست تشخص سامنے آ گیا، 50 ہزار افراد کو انسانی ہمدردی کی بناء پر شہریت جاری

حکومت کی جانب سے مملکت میں غیر قانونی طور پر مقیم 8 لاکھ افراد کو اقاموں کا اجراء بھی کر دیا گیا

جدہ : سعودی عرب دُنیا بھر میں غریبوں اور مفلسوں کی مالی اور اخلاقی امداد کرنے کے حوالے سے پیش پیش رہتا ہے۔ ہر سال کروڑوں ریال بطور امدادقحط زدہ ممالک کے افراد کو روانہ کیے جاتے ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے پناہ گزین کمیشن کے تحت منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں سعودی عرب کی بہت تعریف کی گئی ہے۔ اس عالمی کانفرنس میں سعودی عرب کی نمائندگی سعودی انسانی حقوق کمیشن کے نائب سربراہ عبدالعزیز بن عبداللہ الخیال نے کی۔
انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ سعودی مملکت میں انسانی حقوق کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے اور اسے مقدم خیال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ سعودی عرب کا دستور قرآن و سُنت کی تعلیمات پر اُستوار ہے جن میں انسانوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ سعودی حکومت دُنیا بھر کے مختلف خِطوں میں ناداروں کی امداد کے لیے اپنا خصوصی کردار ادا کر رہی ہے۔
عبدالعزیز الخیال نے بتایا کہ سعودی عرب میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 50 ہزار افراد کو شہریت جاری کی گئی ہے جبکہ مملکت میں غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً 8 لاکھ افراد کو بھی بے دخل کرنے کی بجائے اقامے جاری کر کے ان کی پریشانیوں کا حل نکالا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دُنیا بھر کے نادار انسانوں کے لیے امدادی مہمات کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔
سعودی مملکت کی جانب سے دُنیابھر میں نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کے لیے اب تک 18 بلین ڈالر جبکہ شامی پناہ گزینوں کے لیے 160 ملین ڈالر کے عطیات دیئے جاچکے ہیں۔ جبکہ روہنگیا متاثرین کے لیے 250 ملین ڈالر کی امداد اس کے علاوہ ہے۔ سعودی مملکت میں اس وقت ایک 10 لاکھ 74 ہزار پناہ گزین موجود ہیں، جن کے قیام و طعام کا ذمہ سعودی حکومت کے ذمے ہے، انہیں تمام انسانی حقوق میسر ہیں۔ جبکہ سعودی عرب میں ایسے بچے جن کے والدین کا پتا نہیں ہوتا، انہیں بھی فوری طور پر شہریت دی جاتی ہے اور ان کی پرورش اور تعلیم کا ذمہ سرکار کے ذمے ہوتا ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 9 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp