نمرتا کی ہلاکت کا معمہ حل نہ ہو سکا

ہسٹوپیتھولوجیکل ٹیسٹ کا رزلٹ بھی آگیا، موت کی وجہ کا تعین نہ ہو سکا

لاڑکانہ : چاندکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں موت کا شکار ہونے والی نمرتا کی ہلاکت کا معمہ حل نہیں ہو سکا ہے۔ نمرتا کے ہسٹوپیتھولوجیکل ٹیسٹ کا رزلٹ بھی آگیا لیکن اس ٹیسٹ میں بھی اسکی موت کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔ لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے 22 سالہ طالبہ نمرتا کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق نمرتا کی نعش کو کمرے کا دروازہ توڑ کر نکالا گیا، نمرتا کے گلے میں دوپٹہ بندھا ہوا تھا۔
اس کا تعلق ضلع گھوٹکی سے تھا جبکہ متوفیہ کے والدین کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ سندھ کے رکن اسمبلی نندر کمار نے نمرتا کی موت کو قتل قرار دے دیا تھا۔ نندر کمار نے مطالبہ کیا تھا کہ نمرتا کو قتل کیا گیا ہے، اس معاملے کی عدالتی انکوائری کی جائے۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن کے رہنما حلیم عادل شیخ نے بھی کہا ہے کہ طالبہ نمرتا کا واقعہ خود کشی نہیں لگتا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مشیر نثار کھوڑو نے اپوزیشن کے مطالبے پر کہا کہ نمرتا کی لاش کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے، اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قتل ثابت ہوا تو کسی سے رعایت نہیں ہوگی۔اب ہسٹوپیتھولوجیکل ٹیسٹ کا رزلٹ بھی آگیا لیکن اس ٹیسٹ میں بھی اسکی موت کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔ نمرتا کماری کے قریبی دوست مہران ابڑو کی جانب سے دونوں کے درمیان موبائل فون پر ہونے والے ٹیکسٹ میسجز کا ڈیلیٹ کیا گیا ریکارڈ دوبارہ حاصل کر لیا گیا تھا لیکن اس حوالے سے بھی کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ نمرتا آخری وقت تک مہران ابڑو کے ساتھ رابطے میں تھی۔مہران ابڑو اور نمرتا کے مباین چپقلش کا ریکارڈ بھی پولیس نے حاصل کر لیا ہے۔نمرتا اور مہران میں شادی کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی۔جس کے بعد مہران ابڑو نے آخری وقت نمرتا کو جواب دینا بند کر دیا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 9 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp