کویت: تارکین وطن سے دُشمنی رکھنے والی رُکن پارلیمنٹ صفا الہاشم کا ایک اور تلخ بیان سامنے آ گیا

صفا الہاشم نے تجویز دی ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے غیر مُلکیوں کو مملکت سے بے دخل کر دیا جائے

کویت : کویتی رُکن پارلیمنٹ صفا الہاشم اپنے ملک میں موجود تارکین وطن سے بہت نالاں نظر آتی ہے۔ وقتاً فوقتاً ان کی جانب سے تارکین وطن کے خلاف ایسے بیانات جاری کیے جاتے ہیں ، جن پر نہ صرف تارکین کی جانب سے غم و غصے کا اظہار کیا جاتا ہے، بلکہ دُنیا بھر میں بھی انہیں حیرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اب کی بار انہوں نے ایک بار پھر عجیب و غریب بیان داغ دیا ہے۔
کویتی اخبار القبس کے مطابق صفا الہاشم نے پارلیمنٹ میں تجویز پیش کی ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے تارکین وطن کو مملکت سے بے دخل کر دیا جائے۔ صفا الہاشم نے کہا کہ خاص طور پر تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے 40 سال سے زائد عمر کے غیر مُلکیوں کو ان کی ملازمتوں سے فارغ کر کے وطن واپس بھیج دیا جائے۔انہوں نے یہ تجاویز بھی پیش کیں کہ جو غیر ملکی تین ٹریفک خلاف ورزیاں کرے، اسے بھی کویت سے بے دخل کر دیا جائے۔
اس کے علاوہ زیادہ عمر کے تارکین وطن ، بیمار اور معذوری میں مبتلا غیر مُلکیوں کو بھی کویت سے نکال دیا جائے۔ صفاء کی ایک تجویز یہ بھی تھی کہ کویت میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں سمیت جن کے اقامے ختم ہیں، اگر ان کو کوئی مقامی شہری کسی قسم کی سہولت دیتا ہے، تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے۔ صفاء کا موقف تھا کہ تارکین کی بڑی گنتی کی وجہ سے کویتی باشندے اپنے ہی مُلک میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں، جس کے باعث ان کی زبان اور کلچر پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل صفا الہاشم نے غیر مُلکیوں کے ساحلِ سمندر پر نہانے پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی تھی۔ سفا الہاشم نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ تارکین وطن کی جانب سے عوامی مقامات اور عمارات کو استعمال میں لانے پر اُن سے فیس وصول کرے۔ انہوں نے کویت میں حال ہی میں تعمیر کیے گئے دُنیا کے چوتھے طویل ترین پُل شیخ جابر کازوے پر بھی غیر مُلکیوں کی آمد و رفت پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سفا کا کہنا تھا ”میں نے کئی بار خبردار کیا ہے اور اب بھی کر رہی ہوں کہ کویت میں غیر مُلکیوں کی تعداد تیس لاکھ جبکہ مقامی باشندوں کی گنتی 10 لاکھ سے زائد ہے۔ جو یہاں کے انفراسٹرکچر کے لیے ایک بوجھ ہیں۔ یہ لوگ عید کی چھُٹیوں میں پارکوں اور ساحلی مقامات کا رُخ کرتے ہیں تو کوڑا کرکٹ کی بڑی مقدار اکٹھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان پر فیس لاگو کی جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سفا ہاشم کو اُن کے ایک بیان پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تارکین وطن کی جانب سے سانس لینے پر بھی ٹیکس نافذ ہونا چاہیے۔

تاریخ اشاعت : منگل 8 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp