کراچی میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سمندری پانی قابل استعمال بنانے کا پلانٹ لگانے پرغور شروع

کراچی میں دوہزار پچیس تک پانی کی طلب تیس فیصد بڑھ جائےگی، جرمن کمپنی کے وفد کی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو ملاقات کے دوران بریفنگ

کراچی : کراچی میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سمندری پانی قابل استعمال بنانے کا پلانٹ لگانے پرغور شروع کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جرمن کمپنی کے وفد نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کے دوران انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کراچی میں دوہزار پچیس تک پانی کی طلب تیس فیصد بڑھ جائےگی اور تب پانی کی فراہمی کے لیے سمندری پانی کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی اس لیے سمدری پانی کو صاف کر کے استعمال کرنے کا پلانٹ لگایا جانا چاہیے۔
جرمن وفد نے وزراعلی سندھ کو آف شور ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کے مجوزہ منصوبے پر بریف کیا۔ جرمن کمپنی اے ڈبلیو ڈی آئی سی سمندر کے پانی کو میٹھا کرکے شہر کو یومیہ دوسو پینسٹھ ایم جی ڈی پانی مہیا کرے گی۔ جرمن کمپنی کے مطابق ڈی سیلینیشن پلانٹ ایک بڑے بحری جہاز پر لگایا جائے گا اور اسے چلانے کے لئے سولر انرجی استعمال کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمپنی سے کہا کہ وہ اپنا پرپوزل حکومت کو دے جس کے بعد اس حوالے سے غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت سندھ نے کراچی میں پانی چوروں کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کرلیا ہے اور پانی چوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کر سزائیں دلوائی جائیں گی۔ یہ فیصلہ گزشتہ دنوں چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اجلاس میں کمشنر کراچی اور ایم ڈی واٹر بورڈ نے شہر کو فراہم ہونے والے پانی اور پانی چوری کے متعلق بریفنگ دی۔ ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کے 2015 سے اب تک 194 غیرقانونی ہائیڈرنٹس مسمار کئے گئے ہیں انہونے مزید کہا کے 300 غیر قانونی کنیکشن ختم کر کے 300 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر داخل کی ہیں مگر مقدمات کی صحیح پیروی نا ہونے کے سبب ملزمان کو سزائیں نہیں ہو پائے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 5 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp