مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے حوالے سے سے حتمی فیصلہ (ن) لیگ کی ورکنگ کمیٹی اور سنٹرل کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائیگا

, حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہو کر ٹف ٹائم دینے کی ضرورت ہے ،عجلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے، پاکستان بچانے اورکشمیر کو بھارتی ظلم و بربریت سے نجات دلانے کیلئے نواز لیگ سنجیدہ اور ٹھوس نوعیت کے فیصلے کریگی،سینئر رہنما مسلم لیگ (ن)

شیخوپور : پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر رانا تنویر حسین ایم این اے نے کہاہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی سربراہی ملاقات میں طے پایا تھا کہ لانگ مارچ اور دھرنا دینے کا فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں کیا جائے گا مگر اس کے باوجود مولانا فضل الرحمن نے 27اکتوبر کو دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے جس کی نواز لیگ مخالفت نہیں کرتی اس حوالے سے حتمی فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی ورکنگ کمیٹی اور سنٹرل کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا ، حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہو کر ٹف ٹائم دینے کی ضرورت ہے جس میںعجلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے، وزیر اعظم کی تقریر کے خول سے نکل کر قوم کو پاکستان بچانے اورکشمیر کو بھارتی ظلم و بربریت سے نجات دلانے کیلئے نواز لیگ سنجیدہ اور ٹھوس نوعیت کے فیصلے کرے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ارکان اسمبلی پیر سید اشرف رسول، میاں عبدالرئوف، سابق ارکان اسمبلی رانا افضال حسین، چوہدری حسان ریاض، سابق چیئرمین ضلع کونسل رانا احمد عتیق انور، سابق یو سی ناظم ملک نوید محمود چوہان اور میڈیا کوآرڈینیٹر ندیم گورائیہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، رانا تنویر حسین ایم این اے نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے اس امر کی یقین دھانی کروائی تھی کہ لانگ مارچ اور دھرنے کے حوالے سے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیکر اے پی سی کے پلیٹ فارم سے اعلان کیا جائے گا اب انہوں نے حکومت مخالف لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان کردیاہے ، انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند روز میںپارٹی کا ایک وفد میاں محمد شہباز شریف کی سربراہی میں نواز شریف سے جیل میں ملاقات کرے گا اس کے بعد آئندہ ہفتے مظفر آباد میں ہونے والے پارٹی اجلاس میں حتمی اعلان کیا جائے گا اسی اجلاس میں کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یک جہتی بھی کریں گے ، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھانا چاہئے جس سے غیر جمہوری قوتوں کو تقویت حاصل ہونے کا خدشہ ہو، نا اہل اور نا تجربہ کار حکمران خود ہی ایسے فیصلے کررہے ہیں جس سے وہ اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ہمیں پارٹی کے اقتدار کی نہیں پاکستان اور جمہوریت کی فکر ہے جس کی بقا ملکی ترقی و استحکام کیلئے ضروری ہے، درست فیصلے درست وقت پر کرکے ہم اس حکومت سے جمہوری طریقے سے نجات حاصل کریںگے اب اس حکومت کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہ رہا ہے ، وزیر اعظم کی تقریر کے بعد ایل او سی پر کشیدگی اور مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج کی ظالمانہ کاروائیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 4 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp