لاہور ہائیکورٹ، پنجاب لوکل گورنمنٹ ترامیمی ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر وکلاء کو جواب داخل کرنے کی ہدایت

لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ترامیمی ایکٹ 2019 ء کے خلاف دائر درخواستوں پر درخواست گزاران کے وکلاء کو حکومت اور لوکل گورنمنٹ کے جواب کی روشنی میں جواب الجواب داخل کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر صوبہ بھر کے سابق چیئرمین ضلع کونسلوں، میونسپل کمیٹیوں، میئرز اور سابق لارڈ میئر لاہور سیمت 34 درخواستوں پر سیکرٹری قانون، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور الیکشن کمیشن کے حکام کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے، لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس مامون رشید کی سربراہی میں فل بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی، دوران سماعت عدالت کے روبرو پنجاب حکومت ، سیکرٹری لوکل نے جواب جمع کروا دیا جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں لہذا ان کو مسترد کر دیا جائے ،درخواست گزاروں کی طرف سے ڈاکٹر خالد رانجھا ،احسن بھون ،اعظم نذیر تارڑ،قاضی مبین، اویس خالد اور دیگر ایڈووکیٹس پیش ہوئے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواستیں ناقابل سماعت ہیں لہذا انہیں مسترد کیا جائے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فل بنچ جب چاہے ہم الیکشن کروانے کو تیار ہیں جبکہ درخواست گزاران کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن ممکن نہیں ہیں، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالتی فیصلہ تک حکم امتناعی جاری کیا جائے اور درخواست گزاروں کو کام جاری رکھنے کا موقع دیا جائے تاکہ عوام کے گلی محلے کی سطح پر مسائل کے حل میں کوئی مشکلات پیدا نہ ہوں، عدالت نے کیس کے حتمی فیصلے تک حکم امتناعی جاری کرنے اوردرخواست گزاروں کو دوبارہ کام شروع کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 4 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp