بلدیاتی اداروں کی تحلیل اور نئے بلدیاتی نظام کیخلاف کیس میں درخواست گزاروں کے وکلا ء کوجواب االجواب داخل کرانیکی ہدایت

آئندہ سماعت پر سیکرٹری قانون،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور الیکشن کمیشن کے نمائندے کو ذاتی طور پر پیش ہوں‘ فل بنچ کا حکم

لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی تحلیل اور نئے بلدیاتی نظام کیخلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزاروںکے وکلا ء کو حکومت اور لوکل گورنمنٹ کے جواب کی روشنی میں جواب الجواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ۔فاضل عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری قانون،سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور الیکشن کمیشن کے نمائندے کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی ۔
لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس مامون رشید شیخ کی سربراہی میں جسٹس شاہد وحید اور جسٹس جواد حسن پر مشتمل تین رکنی فل بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی ۔ عدالت کے روبرو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا ۔حکومت پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکھیرا نے علیحدہ علیحدہ تحریر ی جوابات جمع کروا ئے ۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواستیں قابل سماعت انہیں مسترد کر دیا جائے ۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے موقف اپنایا کہ فل بنچ جب چاہے الیکشن کرانے کو تیار ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اپنایا کہ ابھی حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں یہ کیسے ممکن ہے ۔فل بنچ نے دانیال عزیز کی درخواست عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی۔ فل بنچ نے درخواست گزاروں کے وکلا ء کو حکومتی جواب کی روشنی میں جواب داخل کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواستوں کے حتمی فیصلے تک حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔
دوران سماعت فل بنچ نے کچھ درخواستوں میں ترامیم کی اجازت دیدی جبکہ احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال کی جانب سے سابق ضلع کونسلوں کے فنڈز کے استعمال کو روکنے کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کر تے ہوئے حکومت اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا ۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 4 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp