کسی کو دوسرے کے عقیدے پر بات کر نے کی اجازت نہیں ہوگی

،مفتی عبدالقوی نے ’’احترام انسانیت قانون ‘‘ کا مسودہ تیار کرلیا , , قانون کا مسودہ وزارت قانون، وزیراعظم سمیت اعلی حکام کو دینگے، امید ہے اپوزیشن جماعتیں بھی قانون کے مسودے پر متفق ہونگی، مفتی قوی , فضل الرحمان کو کہوں گا مذہبی کارڈ استعمال نہ کریں،مریم نواز، شہباز شریف، بلاول بھٹو اور فضل الرحمان بھی ناموس رسالت پر واضح بات کریں،میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد : چیئرمین دینی مدارس بورڈ پاکستان مفتی عبدالقوی نے ’’احترام انسانیت قانون ‘‘ کا مسودہ تیار کرلیا ہے جس کے مطابق کسی کو دوسرے کے عقیدے پر بات کر نے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ جمعہ کو چیئرمین دینی مدارس بورڈ پاکستان مفتی عبدالقوی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ناموس رسالت اور اہل بیت و اصحابہ کے حوالے سے آ ئین میں شقیں موجود ہیں،احترام انسانیت قانون کا مسودہ تیار کیا ہے،قانون کے مسودے کا نام 298D رکھا ہے ۔
انہوںنے کہاکہ کسی کو اجاذت نہیں ہوگی کہ دوسرے کے عقیدے پر بات کر سکے۔ انہوںنے کہاکہ قانون کا مسودہ وزارت قانون، وزیراعظم سمیت اعلی حکام کو دینگے۔ انہوںنے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں سے بھی توقع ہے کہ قانون کے مسودے پر متفق ہونگی۔مفتی عبدالقوی نے کہاکہ ہماری جماعت تحریک انصاف اس قانون پر غور کرے گی،ہر جماعت کا سیاسی منشور ہے، اس کو لے کر آئیں، کسی کی مذہبی دل آزاری نہ کریں،ہر ایک کے عقائد کا احترام ضروری ہے، اسی لئے ایسا مسودہ قانون تیار کیا ہے،پاکستان میں تمام مذاہب کو ماننے والے ہیں، سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔
انہوںنے کہاکہ ملک کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ کس لیڈر نے کہا ہے کہ جو میرے پیغمبر ؐکو آخری نبی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں،ہم دینی فریضہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم کی راہنمائی جاری رکھیں گے۔ انہوںنے کہاکہ تین دن فضل الرحمان، مریم نواز اور بلاول کے جواب کا انتظار کروں گا۔مفتی عبدالقوی نے کہاکہ یہ مسودہ قانون تمام سیاسی جماعتوں کو فراہم کیا جائے گا ،امید ہے پارلیمنٹ احترام انسانیت بل متفقہ طورپر منظور کرے گی۔
عبدالقوی نے کہاکہ فضل الرحمان کو کہوں گا مذہبی کارڈ استعمال نہ کریں،مریم نواز، شہباز شریف، بلاول بھٹو اور فضل الرحمان بھی ناموس رسالت پر واضح بات کریں۔انہوںنے کہاکہ میرے اوپر اقدام قتل کا کوئی الزام نہیں، صرف ایک سیلفی کی بنیاد پر مجھے ملوث کرنا درست نہیں،سیلفی کا معنی تصویر ہے، تصویر بڑے جلیل القدر علما کی تصاویر بھی آتے ہیں۔
انہوںنے کہاکہ ان تین علما میں سے ہوں جن سے ایسی خواتین رابطے کرتی ہیں، سو سے زائد خواتین نے مجھ سے رابطہ کیا، اب وہ شادی کرکے پاکیزہ زندگی گزار رہی ہیں۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ میں پی ٹی آئی میں ہوں، عمران خان کا میرے ساتھ عقیدت کا تعلق ہے، ان سے ملاقاتیں رہتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وزارت مذہبی امور کا فیصلہ درست ہے، رویت ہلال کمیٹی میں سکالرز کے ساتھ ساتھ ماہرین فلکیات اور موسمیات کے لوگ بھی شامل ہیں،

تاریخ اشاعت : جمعہ 4 اکتوبر 2019

Share On Whatsapp